English ابتدائي صفحہ  |  الیکٹرانیک میل  |  رابطہ  |  انضباط کاروائی  |  ڈاؤن لوڈ  |  عمومی سوالنامہ  |  کارآمد ویب سائٹس  |  ایوان کی لغت  |  سائٹ کا نقشہ
میں 

پروگرام برائے ترقئ قانون سازی

باسہولت چھپنے والا متن

قانون سازی میں معاونت کی سہولیات

پنجاب اسمبلی کے متعمد دفاتر/سیکریٹریٹ قانون سازی میں معاونت درج ذیل شعبہ جات کے ذریعہ سے کرتے ہیں:-

1۔ شعبہ براۓ لائبریری اور مائکروفلمنگ

2۔ شعبہ براۓ آٹومیشن

3۔ شعبہ براۓ تحقیق و طباعت

1۔ شعبہ براۓ لائبریری اور مائکروفلمنگ

1921 میں قائم کردہ پنجاب اسمبلی کی لائبریری ملک کی سب سے پرانی پارلیمانی لائبریری ہےـ یہاں تقریبا" 55،000 کتابوں کا ذخیرہ موجود ہےـ کتابیں اور دیگر مواد ان موضوعات پہ ہیں:-

  1. انسائکلوپیڈیا: جو اشاعتی کاپیوں کے ساتھ کمپیوٹر سی ڈی (CD)  میں بھی دستیاب ہےـ
  2. ایوانوں کی کاروائی: سینٹ، قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی، سندھ اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کی کاروائی کے علاوہ دنیا کی دیگر اسمبلیوں کی کاورائی بھی شامل ہے، جیسے بھارت کی اسٹیٹ اسمبلیاں، غیر منقسم ہندوستان کی قانون ساز اسمبلی، بھارتی لوک سبھا، برطانوی دارالاعوام، برطانوی دارالامراء اور امریکی کانگریس-
  3. دنیا کے مختلف ایوانوں کی کاروائی کی ویڈیوزـ
  4. تاریخ، سیاست، قانون، اسلام اور دیگر موضوعات پر کتابیں

کتابوں کی فہرست مرتب کرنے اور تلاش میں سہولیات کے لیے ایک خاص کمپیوٹر پروگرام "لائبریری آٹومیشن اور مینجمنٹ پروگرام" استعمال ہوتا ہےـ کوئی بھی کتاب ایکسیشن نمبر کلاسیفیکیشن نمبر ( ڈی ڈی سی )، ادیب، عنوان، موضوع، آئی ایس بی این یا کسی بھی لفظ سے تلاش کی جاسکتی ہےـ

لائبریری ہی میں مائکروفلمنگ کا بھی شعبہ ہے جہاں قدیم کتابوں کے نایاب ذخیرے، اجلاسوں کی کاروائی کی نقل اور دیگر اہم دستاویزات کو محفوظ اور بہتر طور پر منظم کیا جاتا ہےـ مائکرو فلم پر محفوظ کئے گئے مواد کو پڑھنے کے لیے مائکرو فلم ریڈر اور چھاپنے کے لیے مائکرو فلم پرنٹردستیاب ہیںـ

انٹرنیٹ کے ذریعے سے وسیع معلومات تک رسائی کے لیے انٹرنیٹ کی سہولیات بھی موجود ہےـ

پنجاب اسمبلی کا کوئی بھی رکن بیک وقت تین کتابیں ایک ماہ کی مدت کے لیے لے سکتا ہےـ کتب استناد(حوالہ جات) جیسے انسائکلوپیڈیا، لغات، سرنامہ بہی(ڈائریکٹری)، اٹلس، جنتریاں، گزٹ، پی ایل ڈی، اے آئی آر، مجلاّت، نادر کتب، اخبارات کی کاپیاں یا ایک سے زائد جلد میں کتابیں وغیرہ جاری نہیں کی جاتیںـ

مجلات و اخبارات

لائبریری درج ذیل مجلات و اخبارات کا اہتمام کرتی ہے:-

1۔ مجلات
2۔ اخبارات

مندرجہ ذیل کتابیں سال 2003-2004 میں لائبریری کے ذخیرے میں شامل کی گئیں:-

شمار

مصنّف

عنوان

اشاعت کا سال

1

Mr Leiden, Brill

The Encyclopedia of Islam

2003

2

Prof. Farakh A. Khan

Waiting for Order

2000

3

Priyanee Wejesekere

Parliaments and Governments in the Next Millennium

1999

4

Campbell, Toom

Judicial Democracy and Legal

2001

5

Rizvi, S. Shabbir

Fundamental Rights and Judicial

2000

6

Aslam, Khaki, Dr

Readings in Human Rights

2000

7

Zafar, M.A.

Annual Law Digest, 2002

2002

8

Pckthall + Fateh

Holy Quran with English and Urdu translation

 

9

Raza, M. Hanif

Portrail of

2003

10

PLD, Lahore

All Legal Decisions

2003

11

الطاف شوکت

نظام کتب خانہ

2003

12

محمد ارشد اویسی

پنجاب اسمبلی میں شعروشاعری

1999

 

2۔ شعبہ براۓ آٹومیشن

آٹومیشن کے شعبہ نے 1993 میں کام شرو‏ع کیا اور اس وقت سے مسلسل ترقی کر رہا ہےـ

1997 میں پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ بنی جس سے دنیا بھر میں اسمبلی کے متعلق معلومات حاصل کرنا ممکن ہواـ اس ویب سائٹ میں وقت گزرنے کے ساتھ مسلسل معلومات کا اضافہ ہوتا رہا اور 2007 میں یہ ویب سائٹ ازسر نو ترتیب دی گئی ـ

آٹومیشن شعبے نے اسمبلی کے اراکین کے بارے میں ایک ڈیٹابیس ( کمپیوٹر سافٹ ویر ) بھی تیار کیا ہے جس میں نمائندوں کے حلقے، شخصی خاکے، تعلیمی قابلیت، پیشے اور سیاسی سفر کی معلومات دستیاب ہیںـ اس سوفٹ ویر کے ذریعے مختلف طریقوں سے معلومات اخذ کی جاسکتی ہےـ

اس طرز کا ایک اور سوفٹ ویر سیکریٹریٹ کے عملے کے بارے میں معلومات رکھنے اورتلاش کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہےـ ان معلومات میں شخصی خاکے، عملی تجربہ، تربیت، نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور چھٹیوں کی تفصیلات شامل ہیںـ عملے کی معلومات کو ذاتی شناختی نمبر ( پرسنل آئڈینٹیفیکیشن نمبر) ، نام ، عہدہ ، قومی شناختی کارڈ نمبر، ٹیکس نمبر ، ملازمت کا سکیل ، تعلیمی قابلیت ، خون کا گروپ ، ملازمت سے سبکدوشی کی عمر اور پچیس سالہ ملازمت کی میعاد کی بنیاد پر تلاش کیا جاسکتا ہےـ

آٹومیشن کے شعبہ نے اندرونی رابطے کے لیے ایک جدید ٹیلیفون نظام (PABX) بھی قائم  کیا ہےـ جو کمپیوٹر کی مدد سے کام کرتا ہےـ اس کی کچھ سہولتوں میں وائس میل اور آٹواٹینڈنٹ شامل ہیںـ  آٹواٹینڈنٹ یعنی بغیر آپریٹر کے کالوں کا وصول ہونا اور مطلوبہ ایکسٹنشن پہ منتقل ہوناـ آٹواٹینڈنٹ سہولت بیک وقت چار ٹیلیفون لائینوں کو سنبھال سکتی ہےـ

اس کے علاوہ ، اسمبلی کے باہر سے کال کرنے والوں کے لیے بہت ہی کار آمد سہولت میسر ہے جس کے ذریع مفصل معلومات حاصل کی جاسکتی ہےـ یہ سہولت اسمبلی کے ٹیلیفون ایکسچینج کے ساتھ متصل کمپیوٹر کی مدد سے ممکن ہوئی ہےـ اور اس سے مستفید ہونے کے لیے کال کرنے والے کے پاس ڈیجیٹل فون سیٹ ہونا ضروری ہےـ

یہ سہولت جو معلومات فراہم کرتی ہے وہ درج ذیل ہے:-

  1. اسمبلی کے اراکین کے بارے میں معلومات جیسے نام ، شہر ، حلقہ ، پتہ وغیرہ
  2. اجلاس کی معلومات جیسے نشت کی کاروائی کا خلاصہ، ایجنڈا، نشت کی تاریخ وغیرہ
  3. کمیٹیوں کے اجلاس کا نظام الاوقات
  4. اسمبلی کے عملے کے فون نمبر اور پتےـ
  5. ٹیلیفون ایکسٹینشن ڈائریکٹری

3۔ شعبہ براۓ تحقیق و طباعت

طباعت کا کام پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ میں اس وقت کے اسپیکر جناب میاں منظور احمد وٹو کی ہدایت اور نگرانی میں 1985 میں شروع ہواـ جس کے بعد پنجاب اسمبلی اور قانون سازی پر کارآمد اور معلوماتی مطبوعات کا سلسلہ جاری ہوگیاـ 1997 میں تحقیق و حوالہ جات کا الگ شعبہ قائم ہوا جس سے تحقیق و طباعت کے کام میں مزید تیزی آئی ـ

پنجاب اسمبلی کی مطبوعات

پنجاب اسمبلی کی اب تک کی مطبوعات کا مختصر تعارف درج ذیل ہے:-

i۔  دی پنجاب لیجسلیٹرز ( پنجاب کے قانون ساز)

یہ کتاب 1987 میں شائع ہوئی اور اس 89 صفحوں پہ مشتمل کتاب میں 1937 سے لے کر 1985 تک کے اراکین ایوان کی فہرست ہےـ اس کے ساتھ ایک اپینڈکس میں 1897 سے لے کر 1937 تک کی پنجاب قانون ساز کونسل کے اراکین کی فہرست بھی شامل ہےـ

اس کتاب کا نمایاں وصف اس کا سرورق ہے جو اسمبلی کے اراکین کی تصویروں سے مزین ہےـ

ii۔ گلمپس آف سپیچزان پنجاب اسمبلی ( پنجاب اسمبلی میں کی جانے والی تقریروں پہ ایک نظر)

1987 میں شائع کی جانے والی یہ مرتب 148 صفحوں پر مشتمل کتاب 1921 سے لے کر 1973 تک کے ہزارہا صفحوں پہ مشتمل ایوان کی کاروائی کے انتھک تحقیقی مطالعے کے بعد کی گئی ـ  ہر چند کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کتاب اس عرصے کی ساری بہترین تقاریر کے منتخب حصوں کا مجموعہ ہے لیکن پھر بھی کچھ بڑی اور ممتاز شخصیات کی تقاریر کی جھلک اس میں پیش کی گئی ہےـ جیسے ڈاکٹر محمد اقبال ، میر مقبول محمود ، چودھری شہاب الدین ، چودھری ظفراللہ خان ، ملک برکات علی ، راجا غضنفر علی خان ، جناب جی الانہ ، مخدوم زادہ سید حسن محمود اور دیگر۔

iii۔ پنجاب اسمبلی 1987

135 صفحوں پہ مشتمل یہ کتاب پنجاب اسمبلی کے پچاس سال مکمل ہونے کے موقع پر شائع کی گئی اور اس کی ترتیب اور چھپائ لاہور کے مشہور پبلیشر فیروز سنز نے کی- یہ صوبائی اسمبلی پنجاب کی تاریخ ، آئین اور کارکردگی کا ایک جائزہ ہےـ اس میں سابقہ گورنر ، وزیراعلی ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکروں کے نام اور مدت کا تذکرہ بھی موجود ہےـ مذید برآں اس میں کچھ تاریخی تصاویر ، انضباط کاروائی پہ کارآمد معلومات اور کمیٹیوں کے کام کرنے کے طریقے بھی شامل ہیںـ

iv۔ گولڈن جوبلی ، پنجاب اسمبلی 1987 – 1937 :

207 صفحوں پر مشتمل یہ کتاب پنجاب اسمبلی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیے جانے والے ایوان کے خاص اجلاس میں کی گئی تقاریر کا مجموعہ ہےـ یہ خاص اجلاس 2-1 فروری 1988 کو منعقد ہوا تھا ـ اس کتاب کا دیباچہ اس وقت کے قومی اسمبلی اسپیکر جناب حامد ناصر چٹھا نے لکھاـ

v. سیمینار 87 :

24 سے 25 مارچ 1987 کو قانون سازی کے عمل پر منعقد کردہ پنجاب اسمبلی کے سیمینار میں کی گئی تقاریر اور مباحث کتابی شکل میں اس عنوان سے شائع کی گئیں ـ اس کتاب میں اپنے وقتوں کی اہم شخصیات کے موضوعاتی لیکچر شامل ہیں جیسے جناب وسیم سجاد ، ( سابقہ وزیر قانون اور پارلیمانی امور اور چیئرمین سینٹ ) ، سردار وزیر احمد جوگزئی ( سابقہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی ) ، راجہ امان اللہ خان ( سابقہ اسپیکر اردو اسمبلی ) ، حاجی محمد سیف اللہ خان ( سابقہ ممبر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر مذہبی امور ) ، چودھری محمد انور بھندر ( سابقہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ) اور پروفیسر سردار محمد اقبال خان موکل ( پرنسپل پنجاب لاء کالج ) ـ

vi۔ پنجاب اسمبلی، 90 – 1988ء :

186 صفحوں پر مشتمل یہ کتاب پنجاب اسمبلی کی تاریخ ، آئین اور کارکردگی پر ایک تصنیف ہےـ اس کا بڑا حصہ اسمبلی کے عہدیداران کے شخصی خاکے اور تصویروں پر مشتمل ہے جن میں گورنر ، وزیراعلی ، اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر ، قائد حزب اختلاف ، وزراء ، مشیر ، پارلیمانی سیکریٹری ، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین اور تمام ارکین اسمبلی شامل ہیںـ اسمبلی کی مصروفیات کا بھی اس تصنیف میں تذکرہ ہےـ اسمبلی کی عمارت کی شان و شوکت اور خوبصورتی کی عکاس کچھ تاریخی تصاویر بھی کتاب کا اہم جزو ہیںـ

vii۔ بائیوگرافی آف ممبرز :

اسپیکر چودھری پرویز الہی کی تجویز اور سیکریٹری اسمبلی ڈاکٹر سید ابوالحسن نجمی کی رہنمائی اور نگرانی میں یہ کتاب 1997 میں تصنیف کی گئی ـ 172 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں پنجاب اسمبلی کے 99 – 1997ء کے اراکین کا مختصر خاکہ پیش کیا گیا ہے جس میں جائے پیدائش ، تاریخ پیدائش ، تعلیمی قابلیت ، سیاسی وابستگی اور پارلیمانی سفر کا مختصر جائزہ شامل ہےـ یہ تمام معلومات اراکین کی اپنی فراہم کردہ ہیںـ

1997 میں پنجاب اسمبلی سکریٹریٹ نے "پنجاب اسمبلی کے فیصلے (1996 - 1985)" کے عنوان سے 139 صفحات پر مشتمل ایک کتاب شائع کی ، اس وقت کے اسپیکر جناب میاں منظور احمد وٹو ، جناب محمد حنیف رامے اور میا منظور احمد مغل ڈپٹی اسپیکر کے اہم فیصلے اس کتاب کا حصہ ہیںـ اسپیکروں کے فیصلے اہمیت کے اعتبار سے بعد میں آنے والے اسپیکروں ، ممبران اور افسران کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیںـ

viii. رول آف پروسیجر آف دی پنجاب اسمبلی 1997ء :

1997 میں پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ نے 176 صفحات پر مشتمل ایک کتاب "رول آف پروسیجر آف دی پنجاب اسمبلی 1997" کے عنوان سے شائع کی ـ یہ کتاب چھے لائحہ عمل شیڈول پروگرام کے ساتھ 18 ابواب پر مشتمل ہےـ مذکورہ بالا کتاب پنجاب اسمبلی کے 1973 کے قوانین کی مذید بہتر شکل ہےـ

ix. پنجاب پارلیمنٹری اسحقاق :

2002 میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے سکریٹریٹ نے "پنجاب پارلیمنٹری اسحقاق" کا ترمیمی ایڈیشن شائع کیا / چھپوایا ـ جو 120 صحفات پر مشتمل ہےـ اسکا پہلا ایڈیشن 1997 میں شائع ہوچکا ہےـ اس کے نو باب ، پنجاب اسمبلی کے 1972 کے قانون اسحقاق سے متعلق بحث کی گئی ہےـ

جس میں 1975 کے قانون کے تحت ( پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہ ، الاؤنسز اور اسحقاق ) ، پنجاب کے وزراء کی ( تنخواہ ، الاؤنسز اور اسحقاق ) آرڈینینس 2002 کے تحت پنجاب کے مشیران کی ( تنخواہ ، الاؤنسز اور اسحقاق ) ، پنجاب کے اسپیشل اسسٹنس کی ( تنخواہ ، الاؤنسز اور اسحقاق ) ، پنجاب کے پارلیمانی سیکریٹریوں کی ( تنخواہ ، الاؤنسز اور اسحقاق ) ، صوبائی اسمبلی پنجاب کے ہوسٹل کے قوانین 2002 اور 1974 کے ایکٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کے ممبران کی ( تنخواہ ، الاؤنسز اور اسحقاق ) شامل ہیںـ

x. پنجاب اسمبلی کے فیصلے ( 1999- 1947 ) :

2001 میں پنجاب اسمبلی کے فیصلے ( 1999- 1947 ) کے عنوان سے چھپنے والی یہ کتاب 541 صفحات پر مشتمل ہے یہ کتاب 1947 سے 1999 کی مدت میں کیے جانے والے فیصلوں کا مجموعہ ہے جو عوامی دلچسپی اور اہمیت کے حامل 23 مختلف موضوعات پر ہےـ ہر فیصلے کو ابتدا" اختصار کے ساتھ دے کر متعلقہ مسئلے اور دیۓ گئے فیصلے کو بڑے مختصر اور جامع انداز میں بیان کیا گیا ہےـ مختلف مسائل و معاملات پر فیصلہ دینے والے پریزاءڈنگ افسران میں شاہ فیض محمد ، ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین ، چودھری فضل الہی ، جناب مبین الحق صدیقی ، چودھری محمد انور بھنڈر ، جناب عمر جان خان ، جناب احمد میاں سومرو ، جناب سید یوسف علی شاہ ، جناب رفیق احمد شیخ ، جناب میاں منظور احمد وٹو ، جناب حنیف رامے ، اور چودھری پرویز الہی شامل ہیںـ

اس کتاب میں کافی تعداد میں ایسے فیصلے شامل ہیں جو بہت سے پیچیدہ قانونی ، آئینی اور ضابطئہ کار کے مسائل کو حل کرنے میں مؤثر اور مددگار ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں پارلیمانی نمائندوں اور دیگر افراد کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گےـ

xi. پنجاب لاء آن لائن

حکومت پنجاب کے محکمئہ قانون کا شائع کردہ پنجاب حکومت کے قوانین کا نیا اور مستند مجموعہ بطور پنجاب کوڈ کے ( پنجاب کے موجودہ قوانین ) 1937 میں دو جلدوں میں [ جلد اول ( 1879 - 1806 ) اور دوسری جلد ( 1936 - 1900 ) ] ہے پہلی جلد کو اشاعت کے بعد سے اب تک تبدیل نہیں کیا گیاـ تاہم دوسری جلد کا ترمیم شدہ ایڈیشن ، 1966 میں دو اضافی جلدوں کے ساتھ جاری ہوا جو 1937 سے 1955 تک کے قوانین پر مشتمل ہےـ 1968 میں مغربی پاکستان کے 1956 سے 1962 تک کے قوانین کو بھی تین جلدوں میں مرتب کر کے چھاپا گیا بعدازاں ، 1970 تک سالانہ جلدیں نکلتی رہیں ، لیکن ون یونٹ کے خاتمے کے بعد یہ کام مکمل نہیں کیا جاسکاـ

مروجہ قوانین میں تبدیلیاں اور نئے قوانین کا نفاذ کسی بھی ترقی پذیر معاشرے کے لیے نہایت اہم اور ضروری ہیںـ  قوانین کے تازہ ترین اور مستند متن کی عدم دستیابی کی وجہ سے موجودہ صورتحال سے نبردآزما ہونا مشکل ہےـ چنانچہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جناب چودھری محمد افضل ساہی کے اقدام پر پنجاب اسمبلی نے یہ ذمہ داری لی اور اس کی تازہ ترین جلد کی طباعت کے لیے ایک مخلص اور محنتی ٹیم کو اس کام پر مامور کردیا لہزا مختصر عرصے میں یہ کام مکمل درستگی کے ساتھ بخیروخوبی پایہ تکمیل کو پہنچاـ

اب پنجاب لاء کا تازہ ترین اشاعتی متن اس ویب سائٹ www.punjablaws.gov.pk پر دستیاب ہےـ ہمیں امید ہے کہ یہ عوامی نمائندوں ، وکلاء ، عدالتوں ، محقیقین ، اسکالرز ، حکومتی محکموں اور عام شہریوں کے لیے مینارہ نور / مشعل راہ ثابت ہوگی ـ

زیر طبع مطبوعات :

پنجاب کے قائم مقام سکریٹری جناب سعید احمد کی نگرانی اور رہنمائی میں درج ذیل مطبوعات زیر تکمیل ہیںـ

i. بائیوگرافی آف ممبرز "2002" :

زیر طباعت یہ کتاب موجودہ پنجاب اسمبلی کے ممبران کے اجمالی خاکوں کا مجموعہ ہوگی جس میں پنجاب اسمبلی کے اراکین کا خاکہ مختصرا" پیش کیا گیا ہے جس میں جائے پیدائش ، تاریخ پیدائش ، تعلیمی قابلیت ، سیاسی وابستگی اور پارلیمانی سفر کا مختصر جائزہ شامل ہوگا جو " بائیوگرافی آف ممبرز 2002 " کا دوسرا ایڈیشن ہوگاـ جس میں موجودہ اسمبلی پنجاب کے ممبران کا مختصر اور مستند تعارف پیش کیا جائیگا ـ یہ صوبہ پنجاب کی اسمبلی کے ممبران کی پارلیمانی برادری کے علاوہ عوام کے لیے ہوگا متذکرہ بالا کتاب تکمیلی مراحل میں ہے اور جلد ہی دستیاب ہو گی ـ

ii. دی پنجاب لیجسلیٹر "2004 - 1897" :

پنجاب اسمبلی کے پارلیمانی قانون سازوں کی تاریخ پر تحقیق کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی کہ پنجاب اسمبلی کے آزادی سے قبل اور بعد کی مدت کے پنجاب اسمبلی کے ممبران کی ایک مکمل فہرست مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے ، لہزا پہلی مرتبہ اسے 1987 میں اس وقت کی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر میاں منظور احمد وٹو کے اقدام پر شعبہ تحقیق و طباعت نے شائع کیاـ

قانون سازوں کے لیے تحقیق کی سہولتوں کی اہمیت کے پیش نظر پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری محمد افضل ساہی نے اس کی ترمیمی اشاعت کے لیے ایک علیحدہ ایڈیٹوریل بورڈ تشکیل دیا ، جس کے سکریٹری جناب سعید احمد ، تحقیق اور طباعت کے ڈائریکٹر جناب عنایت اللہ لک ، سٹیر مترجم جناب خالد محمود ، اور مترجم ڈاکٹر محمد ارشاد اولی شامل ہیں ـ یہ بورڈ پنجاب کے قانون سازوں کی فہرست کامیابی کے ساتھ مرتب کر چکا ہے ـ اس کے ساتھ ہی 1897 سے لے کر اب تک کے سینٹر اور نامور قانون سازوں کی مختصر تاریخ بھی شامل ہےـ ہر دور حکومت میں منظور شدہ قوانین کی مجموعی تعداد ، ہر اسمبلی کے ممبران اور نشستوں کی کل تعداد ، نیز ابتدائی اور آخری اجلاس کی نشستوں کی تاریخ اور اس میں جن آئینی قوانین کو تشکیل دیا گیا ـ متذکرہ بالا کتاب تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے اور مستقبل قریب میں یہ با آسانی ویب سائٹ پر پڑھی جا سکے گی ـ