باب نمبر 4: وزیر اعلیٰ

 

وزیر اعلیٰ

 

 

 

][1]اے۔انتخاب

 

17۔ وزیر اعلیٰ کا انتخاب:۔ (1) عام انتخابات کے بعد کئے جانے والے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد یا کسی وقت کسی وجہ سے وزیراعلیٰ کا عہدہ خالی ہو جانے پر اسمبلی کسی بھی دیگر کارروائی کو روک کر کسی بھی بحث کے بغیر اپنے اراکین میں سے کسی رکن کو بطور وزیراعلیٰ منتخب کرنے کے لئے کارروائی کرے گی۔

 

(2) وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لئے مقرر دن سے ایک دن قبل شام 5:00 بجے سے پہلے تک کوئی رکن پہلے گوشوارے میں دئیے گئے کاغذات نامزدگی کے مطابق کسی دوسرے رکن کو وزیر اعلیٰ(جسےازاں بعد''امیدوار ''کہاجائے گا)کے انتخاب کےلئے نامزد کرنے کےلئے سیکرٹری کو کاغذات نامزدگی جمع کرائے گا۔ان کاغذات نامزدگی پر اس کے بطور تجویز کنندہ اپنے دستخط اور کسی دوسرے رکن کے بطور تائید کنندہ دستخط ثبت ہوں گے،اور ان کاغذات نامزدگی کے ساتھ امیدوار کا دستخط شدہ یہ بیان لف ہوگا کہ اسے اپنی نامزدگی سے اتفاق ہے۔

 

(3) ذیلی قاعدہ (2)میں مذکور کاغذات نامزدگی امیدوار یا تجویز کنندہ، یا تائید کنندہ کی طرف سے داخل کئے جا سکتے ہیں۔

 

(4) کسی امیدوار کو ایک سے زیادہ کاغذات نامزدگی پر تجویز کیا جا سکتا ہے لیکن کوئی بھی رکن ایک انتخاب میں ایک سے زیادہ امیدواروں کا تجویز کنندہ یا تائید کنندہ نہیں ہو سکتا۔

 

(5) سیکرٹری اپنے دستخطوں سے ہر کاغذات نامزدگی کی تصدیق کرے گا ،اس پر تاریخ وصولی اور وقت تحریر کرے گا، اس مقصد کے لئے بنائے گئے رجسٹر میں اس کا اندراج کرے گا اورپہلے گوشوارے میں دی گئی رسید وصولیابی جاری کرے گا۔

 

(6) اگر کوئی رکن ایک سے زیادہ کاغذات نامزدگی جمع کرواتا ہے تو اس کا مقررہ وقت کے اندر سیکرٹری کوپہلے جمع کروایا گیاکاغذ نامزدگی درست شمار ہو گا اور اس کے بعدجمع کرائے جانےوالے تمام کاغذات نامزدگی غیر قانونی تصور ہوں گے اور زیر غور نہ لائے جائیں گے۔

 

 

 

18۔ چھان بین:۔ (1) سپیکر ، انتخاب کے لئے مقرر دن سے ایک دن قبل 6:00 بجے شام ، یا ایسے کسی وقت پر جسے وہ مقرر کرے، قاعدہ 17کے حوالے سے موصول ہونے والے کاغذات نامزدگی کی ،اپنی موجودگی کے متمنی امیدواران، ان کے تجویز کنندوں یا تائید کنندوں کی موجودگی میں چھان بین کرےگا۔

 

وضاحت: اگر سپیکر کاغذات نامزدگی کی چھان بین کے لئے اس ذیلی قاعدہ میں دیئے گئے وقت کے علاوہ کوئی وقت مقرر کرے تو سیکرٹری امیدواروں، تجویز کنندوں اور تائید کنندوں کو کاغذات نامزدگی کی چھان بین کے لئے سپیکر کے مقرر کردہ وقت سے آگاہ کرے گا۔

 

(2) سپیکر،اپنے اس اطمینان پر کسی بھی کاغذات نامزدگی کو مسترد کر سکتا ہے کہ:۔

 

(اے) تجویز کنندہ یا تائید کنندہ یا امیدوار رکن نہ ہے؛

 

(بی) قاعدہ17کی کسی شق پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے؛یا

 

(سی) تجویز کنندہ یا تائید کنندہ یا امیدوار کے دستخط جعلی ہیں۔

 

(3) [2]]ذیلی قاعدہ [(2)میں درج کسی امر کے باوجود، سپیکر کسی کاغذ نامزدگی کو کسی ایسے نقص کی بناء پر مسترد نہیں کرےگا جو اہم نوعیت کا نہ ہو اور وہ جانچ پڑتال کے وقت ایسے کسی نقص کی درستی کی اجازت دے سکتا ہے۔

 

(4) سپیکر ہر کاغذ نامزدگی کو منظور یا مسترد کرتے ہوئے اس پر اپنا فیصلہ ثبت کرے گا اورکاغذ نامزدگی مسترد کرنے کی صورت میں اختصار سے اس کی وجوہات درج کرے گا۔

 

(5) امیدوار کےکسی کاغذ نامزدگی کے استرداد کی وجہ سے امیدوار کی کسی درست کاغذات نامزدگی کے ذریعہ کی گئی نامزدگی باطل نہیں ہوجائے گی۔

 

(6) کسی کاغذات نامزدگی کو منظور یا مسترد کرنے کے بارے میں سپیکر کا فیصلہ حتمی ہوگا۔

 

 

 

19۔ دستبرداری:۔ انتخاب کے آغاز سے قبل کوئی امیدوار کسی بھی وقت سپیکر کے نام اپنی دستی تحریری درخواست جمع کراکے اپنی امیدوار کی حیثیت سے دستبردار ہوسکتا ہے۔

 

 

 

20۔ الیکشن:۔ (1) سپیکر،انتخاب کے آغاز سے قبل درست طور پر نامزد کردہ امیدوار یا امیدواروں کے نام اسمبلی کے سامنے اس ترتیب سے پڑھے گا جس ترتیب سے ان کے کاغذات نامزدگی وصول ہوئے ہوں گے اور دوسرے گوشوارے میں دئیے گئے طریق کار کے مطابق انتخاب کے انعقاد کے لئے کارروائی پر عمل درآمد شروع کردے گا۔

 

(2) اگر مقابلے میں صرف ایک ہی امیدوار ہواور وہ اسمبلی کے کل اراکین کی اکثریت کے ووٹ حاصل کرلے تو سپیکر اس کے بطور وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کا اعلان کردے گا؛لیکن اگر وہ اکثریت کے ووٹ حاصل نہیں کرپاتا توانتخاب کی تمام کارروائی بشمول امیدواروں کی نامزدگی ازسرنو شروع کی جائے گی۔

 

(3) اگرپہلی ووٹنگ میں کوئی امیدوار اسمبلی کے کل اراکین کی اکثریت کے ووٹ حاصل نہ کرسکے تو سپیکر دوسری ووٹنگ ایسے دوامیدواروں کے مابین کروائے گاجنہوں نے پہلی ووٹنگ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہوں گے اور اس امیدوار کے بطور وزیراعلیٰ منتخب ہونے کا اعلان کرے گا جس نے حاضر اور ووٹنگ میں حصہ لینے والے اراکین کے اکثریتی ووٹ حاصل کئے ہوں گے:

 

مگر شرط یہ ہے کہ اگر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو یا زائد امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد برابر ہو تو سپیکر ان کے مابین مزید انتخاب کرائے گا حتیٰ کہ ان میں سے کوئی ایک حاضر اور ووٹ ڈالنے والے اراکین کے اکثریتی ووٹ حاصل کرلے اور ایسے امیدوار کے بطور وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کا اعلان کردے گا۔

 

 

 

21۔ گورنر کو مطلع کرنا:۔ سپیکران قواعد کے تحت منتخب کردہ وزیر اعلیٰ کےنام سے بعجلت ممکنہ گورنر کو مطلع کرے گا۔[

 

 

 

 

 

(بی)۔ اعتماد کا ووٹ

 

22۔ وزیر اعلیٰ پر اعتماد کا ووٹ ۔ (1) کوئی رکن آئین کے آرٹیکل 130 کی][3]ضمن (7)[کے تحت وزیر اعلیٰ پر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے قرار دادپیش کرنے کا تحریری نوٹس سیکرٹری کو دے سکتا ہے اور سیکرٹری بعجلت ممکنہ اس نوٹس کو اراکین میں متداول کرائے گا۔

 

(2) ذیلی قاعدہ (1) کے تحت قرار داد پیش کرنے کا نوٹس۔

 

(اے) وزیر اعلیٰ کی جانب سے دستخط شدہ ایک بیان پر مشتمل ہو گا کہ وہ اس قرار داد کے پیش کئے جانے پر رضا مند ہے؛

 

(بی) یہ نوٹس قلیل المہلت بھی ہو سکتا ہے اور ایوان میں اس کےاعلان یا ذرائع ابلاغ میں اس کی تشہیر سے یہ تصور کیا جائے گاکہ اسے ذیلی قاعدہ (1)کے مقاصد کے لئے متداول کرایا جا چکاہے ؛ اور

 

(سی) اس نوٹس کی وصولی کے بعد سیکرٹری، بعجلت ممکنہ رکن متعلقہ کے نام سے اسے فہرست کارروائی میں شامل کرے گا۔

 

 وضاحت:۔ ذیلی قاعدہ ہذا میں "قلیل المہلت نوٹس"میں وہ نوٹس شامل ہے جو اس روز دیا جائے جس روز اسے زیر غور لانا مقصود ہو۔

 

 (3)یہ قرار داد کسی بھی دن، بشمول تعطیل ، فارغ دن یا غیر سرکاری اراکین کے دن پیش کی جا سکتی ہے۔

 

 (4)قرار داد پیش ہونے کے بعد اس دن قرار داد پر رائے شماری ہونے سے پہلے اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں کیا جا سکے گا۔

 

 (5)قاعدہ ہذا کے تحت قرار داد پر بحث نہیں ہو گی اور رائے شماری دوسرے گوشوارے کی شرائط کے تابع ہو گی۔

 

 (6)ذیلی قاعدہ (1)میں مذکور قرار داد پیش کرنے کے لئے مقرر کئےگئے اجلاس میں قرار داد سے متعلق یا اس سے لازمی امور کے علاوہ کوئی کام یا کارروائی نہیں ہو گی۔

 

(7) اگر آئین کے آرٹیکل 130 کی ][4]ضمن (7)[کے تحت گورنر کی جانب سے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی غرض سے متعین کردہ دن وزیر اعلیٰ اعتماد کاووٹ لینے سے گریز کرے تو یہ تصور کیا جائے گا کہ اسے اراکین کی اکثریت کااعتماد حاصل نہیں ہے۔

 

(8) سپیکر، قاعدہ ہذا کے تحت بعجلت ممکنہ،گورنر کو کارروائی کے نتیجے سےمطلع کرے گا۔

 

 

 

(سی)عدم اعتماد کا ووٹ

 

23۔ وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی قرارداد۔ (1) اسمبلی کے اراکین کی کل تعداد کے کم از کم بیس فیصد اراکین تحریری طور پر سیکرٹری کو آئین کے آرٹیکل 136 کی ضمن (1)کے تحت وزیر اعلیٰ کے خلاف قرار داد کا نوٹس دے سکتے ہیں۔

 

(2) سیکرٹری، بعجلت ممکنہ، اراکین میں نوٹس متداول کرے گا۔

 

(3) ذیلی قاعدہ (1)کے تحت دیا گیا نوٹس، وصول ہونے کی تاریخ سے سات کامل دن گزرنے کے بعد متعلقہ اراکین کے نام سے پہلے یوم کار کی فہرست کارروائی میں شامل کیا جائے گا۔

 

[5]](4) قاعدہ 24 کے ذیلی قاعدہ (3)کے تحت اجلاس شروع ہونے کے بعد اور فہرست کارروائی میں مندرج کوئی دیگر کارروائی شروع کرنے سے قبل قرارداد پیش کرنے کی اجازت لی جائے گی ۔[

 

(5) قرار داد پیش کئے جانے اور اجلاس کی کارروائی کی صورت حال پر غورکرنے کے بعد سپیکر قرار داد پر رائے شماری کے لئے دن مقرر کرے گا:

 

مگر شرط یہ ہے کہ اسمبلی میں قرار داد پیش کئے جانے کے دن سے تین دن گزرنے سے پہلے اور سات دن گزرنے کے بعد قرار داد پر رائے شماری نہیں کی جائے گی۔

 

(6) ذیلی قاعدہ (5)کے تحت مقررہ کردہ دن، سپیکر بحث کے بغیردوسرے گوشوارے کی شرائط کے تابع قرار داد کو اسمبلی میں رائے شماری کے لئےپیش کرے گا اور اس مقرر شدہ دن اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ملتوی نہیں کیاجائے گا جب تک کہ قرارداد پر رائے شماری مکمل نہ ہو جائے۔

 

 (7)سپیکر کی جانب سے قرار داد پر غور و خوض اور رائے شماری کے مقررہ دن کوئی اور کارروائی نہیں ہو گی۔

 

 (8)سپیکر، بعجلت ممکنہ، قرار داد کے بارے میں اسمبلی کے فیصلے سےگورنر کو مطلع کرے گا۔

 

 

 

 

 

 

 



[1] بذریعہ نوٹیفکیشن نمبر PAP/Legis-1(27)/08/397،شائع شدہ پنجاب گزٹ (غیر معمولی ) مورخہ 12 مئی 2011 ، صفحات 38765-69، تبدیل کیا گیا۔

[2] بذریعہ نوٹیفیکشن نمبر PAP/Legis-1(15)/2013/1380،شائع شدہ پنجاب گزٹ(غیر معمولی)، مورخہ 22 فروری 2016، صفحات 3937-44،لفظ 'ضمن'کی جگہ تبدیل کیا گیا۔

 

[3] بذریعہ نوٹیفکیشن نمبرPAP/Legis-1(27)/08/397،الفاظ'ضمن (3)یاضمن (5)'کی جگہ تبدیل کیے گئے۔پنجاب گزٹ (غیر معمولی )مورخہ 12مئی 2011کے صفحات38765-69ملاحظہ فرمائیں ۔

 

 

[4] بذریعہ نوٹیفکیشن نمبرPAP/Legis-1(27)/08/397، الفاظ 'ضمن (5)'کی جگہ تبدیل کیے گئے۔ پنجاب گزٹ (غیر معمولی )مورخہ 12 مئی 2011 کے صفحات38765-69ملاحظہ فرمائیں ۔

 

[5] بذریعہ نوٹیفکیشن نمبر PAP/Legis-1(15)/2013/1380،شائع شدہ پنجاب گزٹ (غیر معمولی )مورخہ22فروری 2016،صفحات 3937-44، درج ذیل کی جگہ تبدیل کیا گیا:

"(4) تلاوت قرآن پاک کے بعد اور فہرست کارروائی میں مندرج کوئی دیگر امور نمٹائے جانے سے پہلے قرار داد پیش کرنے کی اجازت حاصل کی جائے گی۔"

 

 

ایوان

سیکریٹیریٹ

اراکین

کمیٹیاں

ایوان کی کارروائی

مرکز اطلاعات

رپورٹیں اورمطبوعات