Sitting on 9th June 2020

Print

List of Business

 

صوبائی اسمبلی پنجاب

 

 

 

منگل 9 جون 2020کو 02:00بجے سہ پہر منعقد ہونے والے اسمبلی کے اجلاس کی فہرست کارروائی

 

 

 

تلاوت  اور نعت

 

......

 

 

 

سوالات

 

 

 

محکمہ خوراک سے متعلق سوالات

 

دریافت کئے جائیں گے اور ان کے جوابات دیئے جائیں گے۔

 

 

 

غیرسرکاری ارکان کی کارروائی

 

 

 

Text Box: حصہ اول 

 

                                                                                                                                                                                                                                               

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

(مسودہ     قانون)

 

 

 

                  THE PUNJAB CURRICULUM AND TEXTBOOK BOARD (AMENDMENT) BILL 2020.

 

 

 

MS KHADIJA UMER:

 

 

MS KHADIJA UMER:

 

MS KHADIJA UMER:

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

MS KHADIJA UMER:

 

 

MS KHADIJA UMER:

to move that leave be granted to introduce the Punjab Curriculum and Textbook Board (Amendment) Bill 2020.

 

to introduce the Punjab Curriculum and Textbook Board (Amendment) Bill 2020.

 

to move that the requirements of rule 93, rule 94, rule 95 and all other relevant rules of the Rules of Procedure of the Provincial Assembly of the Punjab 1997 may be dispensed with under rule 234 of the said Rules, for immediate consideration of the Punjab Curriculum and Textbook Board (Amendment) Bill 2020.

 

to move that the Punjab Curriculum and Textbook Board (Amendment) Bill 2020, be taken into consideration at once.

 

to move that the Punjab Curriculum and Textbook Board (Amendment) Bill 2020, be passed.

 

.........

 

 

 

Text Box: حصہ دوم 

 

                                                                                                                                                                                                                                               

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

(مفاد عامہ سے متعلق قراردادیں)

 

 

 

(مورخہ 12مئی 2020 کے ایجنڈے سے زیر التواء قراردادیں)

 

 

 

.1

جناب محمد ایوب خان :

اس ایوان کی رائے ہے کہ دیگر صوبوں  کی طرز پر صوبہ پنجاب کے تمام سرکاری ملازمین کو اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد گروپ انشورنس کی رقم مع منافع ادا کرنے کے لئے فی الفور قانون سازی کی جائے اور قواعد و ضوابط مرتب کئے جائیں۔

 

.........

 

 

 

.2

چودھری افتخار حسین چھچھر:

اس ایوان کی رائے ہے کہ حلقہ پی پی۔185 میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگانے کے لئے فی الفور اقدامات کئے جائیں تاکہ حلقہ کی عوام کو پینے کا صاف پانی میسر ہو سکے اور وہ موذی امراض سے محفوظ رہ سکیں۔

 

.........

 

 

 

(موجودہ قراردادیں)

 

 

 

.1

محترمہ شاہینہ کریم :

یہ ایوان ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر دُنیا کی اور پاکستان کی ہر ماں کو سلام پیش کرتا ہے۔ بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں جہاں والد کا کردار بہت اہم ہے وہاں والدہ کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اچھی مائیں اچھی قوم فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہر ماں یعنی عورت کی جسمانی و ذہنی صحت، خوراک، تعلیم و تربیت، حمل کے دوران سہولتیں، محفوظ زچگی کی سہولت، محفوظ تولیدی صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کا موثر انتظام کرے۔

 

.........

 

 

 

.2

محترمہ مومنہ وحید :

پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلہ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم تعمیر سے چار ہزار پانچ سو میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ 12 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔ اس ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی زندگی 35 سال بڑھ جائے گی اور سولہ ہزار سے زائد افراد کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ یہ ایوان دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے فیصلہ کی پُرزور حمایت کرتا ہے اور اس ڈیم کی تعمیر کو وقت کی ضرورت قرار دیتا ہے۔

 

.........

 

 

 

.3

خواجہ سلمان رفیق :

خواجہ عمران نذیر :

محترمہ سلمیٰ سعدیہ تیمور:

اس ایوان کی رائے ہے کہ ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز میں موجود صفائی ستھرائی کرنے والا عملہ کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والا ہراول دستہ ہے۔ یہ عملہ بغیر کسی حفاظتی سازوسامان کے اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کر رہا ہے۔ یہ ایوان وفاقی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس عملہ کو تمام حفاظتی ضروری سازوسامان فراہم کیا جائے۔

 

.........

 

 

 

 

 

 

 

.4

محترمہ کنول پرویز چودھری:

اس ایوان کی رائے ہے کہ پنجاب میں لاک ڈاؤن اور کورونا وباء کے باعث سکولوں کے بند ہونے کی وجہ سے بچوں کی تعلیم بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ سکولوں کے بچوں میں کتابوں کی ترسیل مسلسل التواء کا شکار ہے اور بغیر کتابوں کے تعلیم گھر پروگرام کا کامیاب ہونا ناممکن ہے۔ پنجاب کے وہ اضلاع جو کنٹرول لائن کے قریب ہیں اور LOC کے ساتھ دیہاتی علاقے جہاں موبائل اور کیبل نیٹ ورک نہیں وہ بچے ٹیلی تعلیم سے محروم ہیں۔ سکولوں کے مسلسل بند رہنے، کتابوں کی عدم دستیابی اور ٹیلی تعلیم کے ذرائع کا نہ ہونا کہیں سکولوں میں بہت بڑے ڈراپ آؤٹ کا باعث نہ بن جائے۔ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ گھروں میں بیٹھے تمام بچوں کو فوری کتابوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اساتذہ کے ذریعے بچوں کی تعلیمی رہنمائی کا مناسب انتظام کیا جائے۔

 

.........

 

 

 

.5

جناب محمد صفدر شاکر :

اس ایوان کی رائے ہے کہ حلقہ پی پی۔104 میں راجباہ کلیانوالہ بورالہ ڈویژن فیصل آباد پر واقع بارہ دیہات چک نمبر 547 گ ب ، چک نمبر 549 گ ب، چک نمبر 552 گ ب، چک
نمبر
553 گ ب، چک نمبر 554 گ ب، چک نمبر 555 گ ب، چک نمبر 556 گ ب،
چک نمبر
501 گ ب، چک نمبر 557 گ ب اور 558 گ ب کے چکوک عرصہ دو سال سے نہری پانی سے محروم ہیں اور غریب زمینداروں کو اپنی فصلوں کی کاشت میں بڑی مشکلات ہیں۔ لہذا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ ان علاقوں میں نہری پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

 

.........

 

 

 

 

 

لاہور

محمد خان بھٹی

مورخہ: 4 جون 2020

سیکرٹری

 

Summary of Proceedings

Not Available

Resolutions Passed

قرارداد نمبر:52

محرک  کا نام: جناب خلیل طاہر سندھو

 

                       

(NM-368)              "پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان پروفیسر محمد وارث میر کو ان کی گراں قدر خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ انہوں نے 1958 سے صحافت کے سفر کا آغاز کیا اور 1987 تک اپنے دور کے ایک ممتاز صحافی، دانشور اور استاد تھے، انہوں نے آمرانہ ادوار میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کی اور اپنی جرات مندانہ تحریروں کے ذریعے کلمہ حق بلندکیا۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ ہونے کے ساتھ آپ نے تقریباً پچیس سال صحافت پڑھائی اور ملک کے تمام معروف اردو اخبارات میں بےباک اور فکر انگیز کالم مضامین لکھے جو کہ آج بھی کتابی صورت میں محفوظ ہیں۔ گزٹ آف پاکستان برائے سال 2013 کے صفحہ نمبر 44 کے مطابق پروفیسر وارث میر نے "سچائی کے لئے لکھوں اور لوگوں کی آواز بن کر بولوں" کے مصداق ایک مشن کے ساتھ پاکستان کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی۔ بنیادی انسانی حقوق کے داعی، آزادی اظہار اور سوچ کے علمبردار ہونے کے ناطے محمد وارث میر نے اپنے لئے اس مشکل راہ کا انتخاب کیا۔ پابندیوں، دھمکیوں، ذہنی اذیت اور تشدد کے باوجود آپ پختہ عزم کے ساتھ ظالم قوتوں کے سامنے ڈٹے رہے اور اپنے اصولی موقف پر چلتے ہوئے جمہوریت اور آزادی اظہار کی جنگ لڑی۔ پروفیسر محمد وارث میر کی تحریر کردہ کتابوں میں "حریت فکر کے مجاہد"، "کیا عورت آدھی ہے"، "خوشامدی صحافت سیاست" اور "ضمیر کے اسیر" شامل ہیں۔ آپ نے اپنے اصولوں کی خاطر 48 سال کی عمر میں جان کا نذرانہ پیش کیا۔ صحافت کے شعبے میں آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے پروفیسر محمد وارث میر کو ہلال امتیاز (بعد از مرگ) کا اعزاز عطا کیا ہے۔ لہذا پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان متفقہ طور پر پروفیسر محمد وارث میر کی بیش قدر ملکی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں ان کی آخری آرام گاہ کے قریب واقع نیو کیمپس انڈر پاس کو دوبارہ پروفیسر وارث میر انڈر پاس کا نام سے منصوب کیا جائے۔"                   

 

قرارداد نمبر:53

 

محرک  کا نام: چودھری افتخار حسین چھچھر (PP-185)

 

"اس ایوان کی رائے ہے کہ حلقہ پی پی۔185 میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگانے کے لئے فی الفور اقدامات کئے جائیں تاکہ حلقہ کی عوام کو پینے کا صاف پانی میسر ہو سکے اور وہ موذی امراض سے محفوظ رہ سکیں۔"        

 

قرارداد نمبر:54

 

محرک  کا نام: محترمہ شاہینہ کریم  (W-318)

 

 

                "صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ ایوان ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر دُنیا کی اور پاکستان کی ہر ماں کو سلام پیش کرتا ہے۔ بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں جہاں والد کا کردار بہت اہم ہے وہاں والدہ کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اچھی مائیں اچھی قوم فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہر ماں یعنی عورت کی جسمانی و ذہنی صحت، خوراک، تعلیم و تربیت، حمل کے دوران سہولتیں، محفوظ زچگی کی سہولت، محفوظ تولیدی صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کا موثر انتظام کرے۔"                 

 

قرارداد نمبر:55

 

محرک  کا نام: محترمہ مومنہ وحید (W-321)

 

                   "پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلہ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم تعمیر سے چار ہزار پانچ سو میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ 12 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔ اس ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی زندگی 35 سال بڑھ جائے گی اور سولہ ہزار سے زائد افراد کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ یہ ایوان دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے فیصلہ کی پُرزور حمایت کرتا ہے اور اس ڈیم کی تعمیر کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتا ہے۔"     

 

قرارداد نمبر:56

 

محرک  کا نام: محترمہ سلمیٰ سعدیہ تیمور (W-348)

 

               

"اس ایوان کی رائے ہے کہ ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز میں موجود صفائی ستھرائی کرنے والا عملہ کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والا ہراول دستہ ہے۔ یہ عملہ بغیر کسی حفاظتی سازوسامان کے اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کر رہا ہے۔ یہ ایوان وفاقی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس عملہ کو تمام حفاظتی ضروری سازوسامان فراہم کیا جائے۔"                            

 

 

قرارداد نمبر:57

 

محرک  کا نام: جناب محمد معاویہ (PP-126)

 

                "گزشتہ دنوں عالمی ذرائع ابلاغ کے توسط سے یہ دلخراش اطلاع ملی ہے کہ خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے صوبہ ادلب پر قبضہ کے بعد انسانیت دشمن شدت پسندوں نے صوبہ ادلب کے شہر میں اسلامی تاریخ کے عظم حکمران اور آٹھویں اُموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمت اللہ علیہ اور ان کی اہلیہ محترمہ فاطمہ بنت عبدالملک اور ایک خادم ابو زکریا یحییٰ کی قبور کی بےحرمتی کی مسلح شدت پسندوں نے انسانیت سوز حرکت کرتے ہوئے پہلے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کے احاطے میں موجود تینوں قبروں کوکھودا اور پھر ان میں سے اجساد کی باقیات کو بےحرمت کرنے کے بعد اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ تمام مذاہب اور دُنیا بھر کے قانونی پروٹوکول میں انسانی جان کو جس طرح زندگی میں حرمت اور اولویت حاصل ہے، ایسا ہی مرنے کے بعد بھی انسانی جسم کو عزت و تکریم بخشی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں بدترین دشمن کی میت کو بھی حرمت انسانی کے تقاضوں کے مطابق پروٹوکول کے ساتھ تدفین کا حق دیا گیا ہے، قبروں اور لاشوں کے مکمل احترام کا حکم دیا گیا ہے، مگر شام میں شدت پسندوں نے اسلام کی انتہائی محترم شخصیات کی قبور اور اجساد کی باقیات کی بےتوقیری اور بےحرمتی کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ انسان نہیں بلکہ انسانوں کی شکل میں درندے ہیں۔  

شدت پسندوں کی جانب سے حضرت عمر بن عبدالعزیز  کی قبر اور جسم مبارک کی باقیات کی بےحرمتی کا یہ واقعہ انتہائی شرمناک، افسوسناک اور دلخراش ہے۔ یہ ایوان اس شنیع حرکت کی شدید مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ بشارالاسد انتظامیہ اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف قرارواقعی کارروائی کرے۔ شام کو انبیائے کرام علیہ اسلام، صحابہ کرام اولیائے اکرام کی سرزمین کہا جاتا ہے، اس سرزمین کے چپے چپے پر مقدس شخصیات کی قبور و مزارات اسلامی یادگاریں اور تاریخی آثار پائے جاتے ہیں، ماضی میں مسلح شدت پسنداسلام کے عظیم جرنیل سیدنا خالد بن ولید  جنہیں زبان نبوت سے اللہ کی تلوار کا لقب حاصل ہوا، ان کی قبر کی بھی بےحرمتی کی جا چکی ہے، نیز حلب کی تاریخی جامع مسجد کو بھی تباہ کیا جا چکا ہے۔ یہ ایوان اقوام متحدہ، یو این ہیومن رائٹس کونسل، یونیسکو، او آئی سی، رابطہ عالم اسلامی سمیت تمام عالمی اداروں سےمطالبہ کرتا ہے کہ وہ شام میں باقی تاریخی آثار اور اسلامی یادگاروں کی حفاظت اور حضرت عمر بن عبدالعزیز  کی قبر کی بحالی کیلئے موثر اقدامات کریں۔ آخر میں یہ ایوان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ باضابطہ طور پر ادلب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز  کی قبر اور جسم مبارک کی بےحرمتی کے واقعے پر حکومت شام سے باضابطہ احتجاج اور جواب طلب کرے۔"                                                                                                                                                                                                                                        

قرارداد نمبر:58

 

محرک  کا نام: جناب رمیش سنگھ آروڑہ (NM-370)        

 

"پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان 6 جون 1984 کو سکھ قوم کے مقدس ترین استھان شری اکال تخت پر بھارتی فوج کے ٹینکوں اور توپوں سے حملہ آور ہونے اور گوردوارہ صاحب اور اس سے ملحقہ عبادت گاہوں میں موجود ہزاروں کی تعداد میں سکھ یاتریوں کو شہید کرنے کی پُرزور مذمت کرتا ہے اور ساتھ ہی مطالبہ کرتا ہے کہ سکھ قوم کو انصاف فراہم کیا جائے اور جو بھی اس گھناؤنے کھیل میں شامل تھے اُن کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ سکھ قوم کے استحصال اور اس ظلم و بربریت کو فوجی جرم قرار دیا جائے۔ مزید برآں بھارت کے اندر موجود حالیہ اقلیتوں کے اوپر جو ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے بشمول کشمیری مسلمانوں کے اس ظلم کو فوری طور پر روکا جائے۔"

                           

قرارداد نمبر:59

 

محرک  کا نام: سید حسن مرتضیٰ (PP-95)

 

                   "نئی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی لخت جگر، حسنین کریمین علیہ السلام کی والدہ ماجدہ، جنتی خواتین کی سردار حضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہ کی قبر مبارک جنت البقیع مدینہ منورہ میں ہے۔ پنجاب کا یہ منتخب ایوان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سعودی حکومت کے ساتھ اپنا سفارتی اثرورسوخ استعمال کر کے جنت البقیع میں حضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہ کا باقاعدہ روضہ مبارک بنانے کے لئے اقدامات کرے۔ اگر اس نیک اور مقدس فریضہ کی انجام دہی میں کوئی مالی رکاوٹ ہو تو بطور محرک سارے اخراجات میں ادا کروں گا۔"