Sitting on 8th September 2020

Print

List of Business

 

صوبائی اسمبلی پنجاب

 

 

 

منگل 8 ستمبر 2020کو 2:00بجے دن منعقد ہونے والے اسمبلی کے اجلاس کی فہرست کارروائی

 

 

 

تلاوت  اور نعت

 

......

 

 

 

سوالات

 

 

 

محکمہ سپیشل ایجوکیشن سے متعلق سوالات

 

دریافت کئے جائیں گے اور ان کے جوابات دیئے جائیں گے۔

 

 

 

غیرسرکاری ارکان کی کارروائی

 

 

 

(مفاد عامہ سے متعلق قراردادیں)

 

 

 

(مورخہ 11 اگست 2020 کے ایجنڈے سے زیر التواء قرارداد)

 

 

 

 

جناب محمد ایوب خان :

اس ایوان کی رائے ہے کہ دیگر صوبوں  کی طرز پر صوبہ پنجاب کے تمام سرکاری ملازمین کو اپنی
مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد گروپ انشورنس کی رقم مع منافع ادا کرنے کے لئے فی الفور قانون سازی کی جائے اور قواعد و ضوابط مرتب کئے جائیں۔

 

.........

 

 

 

(موجودہ قراردادیں)

 

 

 

.1

جناب رمیش سنگھ اروڑہ :

اس ایوان کی رائے ہے کہ کرتار پور صاحب راہداری کی کامیاب تکمیل ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام کی اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری،  پُرامن اور بردبار رویہ کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اس سے پوری دُنیا کی سکھ برادری میں اعتماد پیدا ہوا ہے۔کرتار پور صاحب کی بحالی میں حکومت پاکستان کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ جناب پرویزالہٰی صاحب کی بطور CM پنجاب خدمات قابل ستائش ہیں جنہوں نے کرتار پور صاحب تک پہلی پختہ سڑک قلیل عرصے میں مکمل کروائی۔ موضع کرتار پور صاحب گاؤں کی آباد کاری بدست شری گرونانک جی دیو کی 500 سالہ تقریبات کا انعقاد 2022 میں ہوگا۔ ان تقریبات میں پوری دُنیا سے سکھ یاتری پاکستان تشریف لائیں گے۔ اسکے ساتھ ساتھ مقامی سکھ قوم بھی کرتار پور صاحب آئے گی۔یہ ایوان وفاقی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ کرتار پور صاحب کو مقدس مقام ننکانہ صاحب سے بذریعہ سیالکوٹ، لاہور موٹروے جوڑنے کے لئے ایک دو رویہ سڑک بنائی جائے کیونکہ موجودہ سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

 

.........

 

 

 

 

 

(جاری صفحہ 2…..)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

.2

محترمہ مہوش سلطانہ :

اس ایوان کی رائے ہے کہ چونکہ صوبہ بھر میں Stray dogs  بہت زیادہ ہیں اور انکے کاٹنے سے کئی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں،لہذا ان کو تلف کرنے کیلئے فی الفور اقدامات کئے جائیں نیز تحصیل لیول پر Dog Centre  بنائے جائیں۔

 

.........

 

 

 

.3

جناب محمد صفدر شاکر :

اس ایوان کی رائے ہے کہ صوبہ میں زرعی ترقی اور زمیندار کی خوشحالی کے لئے گندم، کپاس اور گنے کی فصلوں کے ایسے بیج تیار کئے جائیں جو نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کریں بلکہ ان فصلوں کو بیماریوں سے بھی محفوظ رکھیں۔

 

.........

 

 

 

.4

جناب صہیب احمد ملک:

تحصیل بھیرہ اور تحصیل بھلوال (ضلع سرگودھا) کے درمیان سے گزرنے والے سیم نالہ میں شگاف پڑنے سے سینکڑوں ایکڑ زرعی رقبہ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور متعدد کالونیوں میں مکانوں کو نقصان پہنچا اور ملحقہ آبادیوں سالم، دیووال، پنڈی کوٹ، کوٹ حاکم خان کالونی، نبی شاہ بالا، علی پور نون، تھلیاں کالونی دونوں طرف، خان محمد والا، ہاتھی ونڈ، جہان پور، دھوری، مہر کالونی نزد ہاتھی ونڈ، خواجہ صلہ اور ڈیرہ جات سمیت ملحقہ بستیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی گھروں میں داخل ہونے سے لاکھوں روپے کا گھریلو سامان تباہ ہوگیا۔ صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ تحصیل بھیرہ اور تحصیل بھلوال کی ان آبادیوں میں مکانوں اور فصلوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا سروے کرایا جائے تاکہ مہنگائی کے دور میں جن لوگوں نے مہنگے داموں بیج پیٹرول اور کھاد خرید کئے ہیں وہ ان مالی اخراجات کے بوجھ کے نیچے دب نہ جائیں۔ کسانوں کی مالی امداد کی جائے اور کسانوں نے مختلف بینکوں سے جو زرعی قرضہ جات حاصل کئے ہیں ان کو موخر کیا جائے اور آبیانہ، مالیہ، زرعی ٹیکس معاف فرمائے جائیں اور جن مکانوں کا نقصان ہوا ہے ان کی مالی امداد کی جائے۔

 

.........

 

 

 

.5

چودھری اقبال گجر :

وطن عزیز کے تیسرے بڑے اور جی ڈی پی میں 5 فیصد حصہ والے شہر گوجرانوالہ کے 37 سرکاری اور 82 نجی کالجز سے سالانہ 78 ہزار کے قریب فارغ التحصیل طلباء یونیورسٹی کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کے متمنی ہوتے ہیں جبکہ گوجرانوالہ میں صرف ایک سرکاری یونیورسٹی کا ایک سب کیمپس موجود ہے جس میں کل تین ہزار دو سو طلباء کے تعلیم حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے جس وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں طلباء تعلیم سے زیادہ اخراجات رہائش اور سفر پر کر کے دیگر شہروں کی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ملک کی خدمت کے لئے گوجرانوالہ نے لاکھوں ڈاکٹرز، انجینئرز، بیورو کریٹس الغرض ہر شعبہ میں خدمات انجام دینے والے سپوت پیدا کئے ہیں۔ اس شہر کے نوجوانوں کو ملک کے مستقبل کی تعمیر و ترقی کے سفر کا ہمرکاب بنانے کے لئے یونیورسٹی
کا قیام ناگزیر ہے۔ لہذا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر گوجرانوالہ شہر میں یونیورسٹی قائم
کی جائے۔

 

.........

 

 

 

لاہور

محمد خان بھٹی

مورخہ: 3 ستمبر 2020

سیکرٹری

 

Summary of Proceedings

Not Available

Resolutions Passed

 

قرارداد نمبر: 69

 

 محرک کا نام:  جناب محمد عبداللہ وڑائچ (پی پی۔29)

 

"برطانوی پارلیمنٹ کے چند ارکان نے قادیانیوں کے حق میں ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس کا عنوان Suffocation of the Faithful  ہے۔ یہ رپورٹ "آل پارٹی پارلیمانی گروپ برائے احمدیہ" کی طرف سے پاکستان کے خلاف جاری کی گئی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف ظلم و جبر اور استحصال ریاست پاکستان کی سرپرستی میں  ہو رہا ہے جبکہ پاکستان پر الزام تو لگایا گیا ہے لیکن پاکستان کا موقف شامل نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کو اس رپورٹ میں دی گئی سفارشات کی منظوری سے مشروط کیا جائے۔ رپورٹ کی سفارشات میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے قوانین میں قادیانیوں کے حق میں تبدیلی کی جائے اور قادیانیوں کو تعلیمی اداروں میں تبلیغ کی مکمل اجازت ہونی چاہئے۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان اور دفتر خارجہ اس رپورٹ کو برطانوی پارلیمنٹ سے فوری طور پر withdraw کروائے تاکہ اُمت مسلمہ کے خلاف اس سازش کو ناکام کروایا جائے۔ یہ پاکستان کی خود مختاری کے خلاف سازش ہے۔ یہ ایوان فرانس اور سویڈن میں توہین رسالتﷺ اور قرآن پاک کی بےحرمتی کے نہایت ہی مذموم واقعہ پر بھی سخت ترین الفاظ میں مذمت کا اظہار کرتا ہے۔ اس سے پوری اُمت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ مغربی دُنیا کو یہ احساس ہی نہیں کہ توہین رسالتﷺ یا توہین قرآن سے مسلمانوں پر کیا گزرتی ہے۔ لہذا آج پورا ایوان یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس فتنے کے سدباب کے لئے وزارت خارجہ اور حکومت پاکستان فوری طور پر آواز بلند کرے اور برطانوی پارلیمنٹ سے یہ رپورٹ withdraw  کروائے جبکہ قرآن پاک کی بےحرمتی اور توہین رسالتﷺ کے معاملے پر فرانس اور سویڈن کی حکومت سے بھی احتجاج کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو رکوانے کے لئے اقدامات کرے۔"

 

-----------------

 

قرارداد نمبر: 70

 

محرک کا نام: جناب ساجد احمد خان (پی پی۔67) پارلیمانی سیکرٹری برائے سکولز ایجوکیشن

 

"میرے حلقہ پی پی۔67 منڈی بہاؤالدین میں واپڈا نے کٹھیالہ شیخاں گرڈ سٹیشن سے یونین کونسلز قادر آباد، میانوال رانجھا، بھیکھو، بھوآ احسن اور چک شہباز میں نئی ٹرانسمیشن لائنز بچھائی تھیں تاکہ proper طریقے سے بجلی کی سپلائی جاری رہے لیکن اس میں ناقص میٹیریل استعمال کیا گیا ہے جس وجہ سے شروع میں ہی بجلی کے مسائل آنا شروع ہوگئے تھے لیکن اب تو بہت زیادہ مسائل پیدا ہو گئے ہیں اور بار بار بجلی fluctuate  ہو رہی ہے جس سے اس علاقے کے لوگوں کی زرعی ٹیوب ویلز کی موٹریں جل رہی ہیں، گھریلو استعمال کا قیمتی الیکٹرک سامان جل رہا ہے، اس سے ایک طرف تو لوگ آئے روز قیمتی سامان سے محروم ہو رہے ہیں، دوسری طرف بروقت فصلوں کی کاشت بھی نہیں کر سکتے حتیٰ کہ پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہوتا چونکہ آئے روز تو ان کی گھریلو موٹریں بھی جل جاتی ہیں۔ اس مسئلے کی وجہ سے درج بالا یونین کونسلز کے لوگ بہت مسائل کا شکار ہیں اور suffer  کر رہے ہیں۔ لہذا پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان وفاقی حکومت سے اس امر کا مطالبہ کرتا ہے کہ یہ مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے نیز اس معاملے کی انکوائری کی جائے کہ یہ ناقص میٹیریل استعمال کرنے میں کون ملوث ہیں جو بھی لوگ اس میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف موثر کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔"

 

--------------------

 

قرارداد نمبر: 71

 

محرک کا نام: جناب رمیش سنگھ اروڑہ (NM-370)

 

"اس ایوان کی رائے ہے کہ کرتار پور صاحب راہداری کی کامیاب تکمیل ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام کی اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری،  پُرامن اور بردبار رویہ کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اس سے پوری دُنیا کی سکھ برادری میں اعتماد پیدا ہوا ہے۔کرتار پور صاحب کی بحالی میں حکومت پاکستان کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ جناب پرویزالہٰی صاحب کی بطور CM پنجاب خدمات قابل ستائش ہیں جنہوں نے کرتار پور صاحب تک پہلی پختہ سڑک قلیل عرصے میں مکمل کروائی۔ موضع کرتار پور صاحب گاؤں کی آباد کاری بدست شری گرونانک جی دیو کی 500 سالہ تقریبات کا انعقاد 2022 میں ہوگا۔ ان تقریبات میں پوری دُنیا سے سکھ یاتری پاکستان تشریف لائیں گے۔ اسکے ساتھ ساتھ مقامی سکھ قوم بھی کرتار پور صاحب آئے گی۔یہ ایوان وفاقی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ کرتار پور صاحب کو مقدس مقام ننکانہ صاحب سے بذریعہ سیالکوٹ، لاہور موٹروے جوڑنے کے لئے لاہور سیالکوٹ موٹروے لنک روڈ 4 لین 73 کلومیٹر لمبا منصوبہ جو 2018-19 کے پی ایس ڈی پی میں شامل تھا اور جسے بعد ازاں ختم کر دیا گیا تھا، اسے فی الفور بحال کیا جائے۔"

 

-------------------------

 

قرارداد نمبر: 72

 

محرک کا نام: جناب محمد صفدر شاکر (پی پی۔104)

 

"اس ایوان کی رائے ہے کہ صوبہ میں زرعی ترقی اور زمیندار کی خوشحالی کے لئے گندم، کپاس اور گنے کی فصلوں کے ایسے بیج تیار کئے جائیں جو نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کریں بلکہ ان فصلوں کو بیماریوں سے بھی محفوظ رکھیں۔"

 

-----------------

 

قرارداد نمبر: 73

 

محرک کا نام: جناب صہیب احمد ملک (پی پی۔72)

 

"تحصیل بھیرہ اور تحصیل بھلوال (ضلع سرگودھا) کے درمیان سے گزرنے والے سیم نالہ میں شگاف پڑنے سے سینکڑوں ایکڑ زرعی رقبہ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور متعدد کالونیوں میں مکانوں کو نقصان پہنچا اور ملحقہ آبادیاں جس میں روشن پور، ٹھٹھی ولانا، سالم، دیووال، پنڈی کوٹ، کوٹ حاکم خان کالونی، اسلام پور، لوکڑی، بھیرہ،  گوندپور، علی پور سیداں، جھادا، چک میصراں، ہاتھی ونڈ، جہان پور، دھوری، مہر کالونی نزد ہاتھی ونڈ، خواجہ صلہ اور ڈیرہ جات سمیت ملحقہ بستیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی گھروں میں داخل ہونے سے لاکھوں روپے کا گھریلو سامان تباہ ہوگیا۔ صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ تحصیل بھیرہ، تحصیل بھلوال اور تحصیل کوٹ مومن کی ان آبادیوں میں مکانوں اور فصلوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا سروے کرایا جائے تاکہ مہنگائی کے دور میں جن لوگوں نے مہنگے داموں بیج پیٹرول اور کھاد خرید کئے ہیں وہ ان مالی اخراجات کے بوجھ کے نیچے دب نہ جائیں۔ کسانوں کی مالی امداد کی جائے اور کسانوں نے مختلف بینکوں سے جو زرعی قرضہ جات حاصل کئے ہیں ان کو موخر کیا جائے اور آبیانہ، مالیہ، زرعی ٹیکس معاف فرمائے جائیں اور جن مکانوں کا نقصان ہوا ہے ان کی مالی امداد کی جائے۔"