باب نمبر 8: سوالات

 

سوالات

 

 

 

42۔ سوالات کا وقت۔ (1) ماسوائے اس صورت کے قواعد ہذا میں کچھ مذکور ہو ، [1]]قاعدہ 24 کے ذیلی قاعدہ (3)کے تحت نشست کے آغاز کے بعد[اور اراکین کی حلف برداری، اگر کوئی ہو، کے بعد اجلاس کا ابتدائی ایک گھنٹہ سوالات دریافت کرنے اور ان کے جوابات دینے کے لئے وقف ہو گا۔

 

(2) ایسے دن سوالات کا وقفہ نہیں ہو گا جو:

 

(اے) [2]]ہفتہ، اتوار[ یا تعطیل کا دن ہو اور ایسے کسی دن اسمبلی کا اجلاس ہو؛

 

(بی) عام انتخابات کے بعد اراکین کی عام حلف برداری کے لئے مقرر کیا گیا ہو؛

 

(سی) مندرجہ ذیل امور کے لئے مقرر کیا گیا ہو:

 

(i) سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب؛

 

(ii) [3]]وزیر اعلٰی کا انتخاب؛[

 

 (iii) وزیر اعلیٰ پر اعتماد کے ووٹ کے لئے قرار داد پیش کرنا،زیر غور لانا اور اس پر رائے شماری؛

 

(iv) سپیکر، ڈپٹی سپیکر یا وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتمادکی قرار داد پیش کرنا، زیر غور لانا اور اس پر رائے شماری؛

 

(v) گورنر کا خطاب؛

 

(vi) بجٹ یا ضمنی بجٹ پر بحث یا بجٹ یا ضمنی بجٹ کے مطالبات زر پر رائے شماری؛ اور

 

(vii) مسودہ قانون مالیات پر غور اور اس کی منظوری۔

 

 

 

43۔سوالات کا نوٹس۔ کسی سوال کے لئے پندرہ کامل دنوں سے کم عرصے کا نوٹس نہیں دیا جائے گا تاوقتیکہ سپیکر، متعلقہ وزیر کی منظوری سے ، اس سے کم عرصہ کے نوٹس پر کوئی سوال دریافت کرنے کی اجازت دے دے:

 

مگر شرط یہ ہے کہ اگر نوٹس کی وصولی کے سات یوم کے اندر اندر وزیر کی منظوری حاصل نہ ہو اور سپیکر، مطمئن ہو کہ یہ فوری اہمیت عامہ کا مسئلہ ہے تو وہ قلیل المہلت نوٹس منظور کر سکتا ہے۔

 

 

 

44۔قلیل المہلت سوالات۔ قلیل المہلت سوالات کے جوابات بالعموم وقفہ سوالات کے آغاز میں دئیے جائیں گے:

 

مگر شرط یہ ہے کہ :

 

(i) کوئی رکن ایک اجلاس میں ایک سے زائد قلیل المہلت سوال دریافت نہیں کرے گا؛ اور

 

 (ii) قلیل المہلت سوال کسی ایسے سوال پر سبقت کی غرض سے دریافت نہیں کیا جائے گا جس کا نوٹس پیشتر ازیں دیا جا چکا ہو۔

 

 

 

45۔ سوالات کے نوٹس کا نمونہ۔ (1) کسی سوال کا نوٹس سیکرٹری کو تحریری طور پر دیا جائے گا اور نوٹس میں مخاطب کئے گئے وزیر کے سرکاری عہدے کی وضاحت کی جائے گی یا اگر اس سوال میں کسی غیر سرکاری رکن سے دریافت کیاگیا ہو، تو مخاطب کئے جانے والے رکن کا نام دیا جائے گا۔

 

(2) اگر کوئی رکن نشان زدہ سوال پوچھنا چاہے تو وہ اسے ستارہ کا نشان لگا کر اس کو نمایاں کرے گا۔

 

(3) اگر کسی نشان زدہ سوال کے بارے میں سپیکر کی رائے یہ ہو کہ سوال اس نوعیت کا ہے کہ اس کا تحریری جواب زیادہ مناسب ہو گا تو وہ اس امر کی ہدایت کرے گا کہ ایسے سوال کو تحریری جوابات دئیے جانے والے غیر نشان زدہ سوالات کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

 

 

 

46۔ سوالات کا نفس مضمون۔ (1) قواعد ہذا کے احکامات کے تابع مفاد عامہ کے ایسے امور کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے ایسا کوئی سوال دریافت کیا جا سکتا ہے جو اس متعلقہ وزیر کے خاص دائرہ اختیار میں ہو جس سے سوال دریافت کیا گیا ہو۔

 

(2) کسی وزیر سے دریافت کئے جانے والے سوال کا تعلق ان معاملات عامہ سے، جن سے وہ سرکاری طور پر وابستہ ہو یا کسی ایسے انتظامی معاملے سے ہونا چاہیے، جس کے لئے وہ ذمہ دار ہو۔

 

(3) جس محکمہ کا کوئی وزیر نہ ہو اس سے متعلق سوالات وزیر قانون و پارلیمانی امور سے دریافت کئے جائیں گے۔

 

 

 

47۔ غیر سرکاری اراکین سے سوالات۔ کسی غیر سرکاری رکن سے سوال دریافت کیا جا سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ سوال کے نفس مضمون کا تعلق کسی ایسے مسودہ قانون، قرار داد یا اسمبلی کی کارروائی سے متعلق کسی ایسے معاملے سے ہو جس کے لئے وہ رکن ذمہ دار ہو اور ایسے سوال کے لئے طریق کار، جہاں تک ہو سکے، وہی ہو گا جو کسی وزیر سے دریافت کئے گئے سوال کے معاملے میں اختیار کیا جاتا ہے اور اس میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں گی جو سپیکر ضروری یا مناسب سمجھے۔

 

 

 

48۔ سوالات کی اجازت۔ کسی سوال کے دریافت کرنے کی اجازت لازمی طور پر مندرجہ ذیل شرائط کے تابع دی جائے گی یعنی۔

 

(اے) اس میں کوئی نام یا بیان شامل نہ ہو، ماسوائے اس صورت کے کہ وہ سوال کو قابل فہم بنانے کے لئے از حد ضروری ہو؛

 

(بی) اگر اس میں کوئی بیان شامل ہو تو اس رکن نے خود کو اس بیان کی صداقت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہو؛

 

(سی) اس میں دلائل، استنباط ، طنزیہ فقرے، الزام، برے القاب یا ہتک آمیز بیانات شامل نہ ہوں؛

 

(ڈی) اس میں کسی دقیق قانونی نکتہ یا کسی فرضی صورت حال کے بارے میں اظہار رائے یا اس کا حل دریافت نہ کیا گیا ہو؛

 

(ای) اس میں کسی شخص کے چال چلن یا کردار کے بارے میں، ماسوائے اس صورت کے کہ ایسا اس کی سرکاری یا عوامی حیثیت سے متعلق ہو،کوئی حوالہ نہ دیا گیا ہو اور نہ اس میں کسی شخص کے چال چلن یا کردار کے ایسے پہلو کا حوالہ ہی دیا گیا ہو جس پر صرف باضابطہ تحریک کے ذریعے بحث کی جا سکتی ہو؛

 

(ایف) یہ زیادہ طویل نہ ہو؛

 

(جی) یہ ایسے امور کے بارے میں نہ ہو جن سے حکومت کا بنیادی طور پر کوئی تعلق نہ ہو؛

 

(ایچ) اس کے ذریعے ایسے اداروں یا اشخاص کے زیر انتظام امور کے بارے میں معلومات دریافت نہ کی گئی ہوں جو ماسوائے اس صورت کے کہ ایسے اداروں یا اشخاص سے حکومت کا مالی مفاد وابستہ ہو، حکومت کے سامنے اصلاً جوابدہ نہ ہوں؛

 

(آئی) اس میں ایسے معاملات کے بارے میں جو کسی کمیٹی کے زیر غور ہوں، کوئی معلومات طلب نہ کی گئی ہوں اور نہ اس میں ایسی کمیٹی کی کارروائی کے بارے میں ہی پوچھا گیا ہو تاوقتیکہ ایسی کارروائی کمیٹی کی رپورٹ کی صورت میں اسمبلی کے روبرو پیش نہ کر دی گئی ہو؛

 

(جے) اس میں کسی کے ذاتی کردار پر الزام نہ لگایا گیا ہو اور نہ اس سے الزام تراشی کا کوئی پہلو ہی نکلتا ہو؛

 

(کے) اس میں پالیسی سے متعلق ایسے نکات نہ اٹھائے گئے ہوں جو سوال کے جواب کی حدود میں نہ سما سکتے ہوں؛

 

(ایل) اس میں ایسے سوالات فی نفسہ نہ دہرائے گئے ہوں، جن کا جواب پیشتر ازیں دیا جا چکا ہو؛

 

(ایم) غیر اہم، دل آزار، بے معنی اور مبہم نہ ہو،

 

(این) اس کے ذریعے کوئی ایسی معلومات طلب نہ کی گئی ہوں جو ایسی دستاویزات میں موجود ہوں جن سے عوام باآسانی استفادہ کر سکتے ہوں یا جو عام حوالہ جاتی کتب میں دستیاب ہو سکتی ہوں؛

 

(او) اس میں کسی اخبار کا ذکر نام لے کر نہ کیا گیا ہو اور اس میں یہ بات دریافت نہ کی گئی ہو کہ آیا اخبارات میں شائع شدہ بیانات یا غیر سرکاری افراد یا اداروں کے بیانات صحیح ہیں؛

 

(پی) اس سے کابینہ کی بحثوں، یا گورنر کو دئیے گئے کسی مشورے، یا کسی ایسے امر، جس سے متعلق کسی معلومات کا اظہار از روئے آئین و قانون ممنوع ہو، کے بارے میں معلومات حاصل نہ کی گئی ہوں؛

 

(کیو) اس میں۔

 

(i) گورنر یا سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے کسی جج کے رویے پر کسی قسم کی رائے زنی نہ کی گئی ہو؛

 

(ii) اسمبلی کے فیصلوں پر نکتہ چینی نہ کی گئی ہو؛

 

(iii) عمومی طور پر ماضی بعید کی معلومات یا کسی معاملے کے بارے میں دریافت نہ کیا گیا ہو؛

 

(iv) ایسے معاملات کے متعلق معلومات طلب نہ کی گئی ہوں جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے خفیہ یا حساس ہوں؛

 

(v) پاکستان میں قائم کسی عدالت یا آئینی ٹریبونل کے کسی فیصلے پر رائے زنی نہ کی گئی یا ایسے ریمارکس نہ دئیے گئے ہوں جن سے کسی زیر سماعت معاملے پر مضر اثر پڑنے کا احتمال ہو؛

 

(vi) عدالت میں زیر سماعت کسی معاملے کے بارے میں دریافت نہ کیا گیا ہو؛

 

(vii) کسی غیر ملک کے بارے میں ناشائستہ کلمات موجود نہ ہوں۔

 

 

 

49۔ سوالات کے قابل اجازت ہونے کا فیصلہ سپیکر کرے گا۔ سپیکر سوال کے قابل اجازت ہونے کے بارے میں فیصلہ کرے گا اور اگر اس کی رائے میں کوئی سوال قواعد ہذا کے منافی ہو تو وہ اسے یا اس کے کسی حصے کو نامنظور کر دے گا یا وہ اپنی صوابدید سے اس سوال کی صورت تبدیل کر دے گا۔

 

 

 

50۔ سوالات کی منظوری کا نوٹس۔ کسی سوال کو اس وقت تک جواب دئیے جانے کے لئے سوالات کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا جب تک کہ سیکرٹری کی جانب سے اس وزیر یا رکن، جس سے سوال دریافت کیا گیا ہو، کو سپیکر کی جانب سے اس سوال کی اطلاع دئیے جانے کے دن سے آٹھ کامل دن نہ گزر چکے ہوں۔

 

 

 

51۔ سوالات کے لئے دنوں کا تعین۔ مختلف ایام میں وقفہ سوالات ایسے سرکاری محکمہ یا محکمہ جات سے متعلق سوالات کے جوابات دینے کے لئے باری سے مقرر کیا جائے گا جس کی تصریح وقتاً فوقتاً سپیکر کرے گا اور کسی ایسے دن کی فہرست سوالات میں صرف اس محکمہ یا محکمہ جات کے بارے میں سوالات، جس کے لئے ایسا دن مقرر کیا گیا ہو، نیز ایسے سوالات جو غیر سرکاری اراکین سے دریافت کئے گئے ہوں جوابات کے لئے سوالات کی فہرست میں شامل کئے جائیں گے۔

 

 

 

52۔کسی اجلاس کے لئے سوالات کی تعداد۔ (1) کسی اجلاس کے لئے فہرست سوالات میں ایک ہی رکن کے دو سے زائد نشان زدہ سوالات بشمول قلیل المہلت سوالات اور پانچ سے زائد غیر نشان زدہ سوالات شامل نہیں کئے جائیں گے:

 

 مگر شرط یہ ہے کہ قاعدہ ہذا میں مذکور کسی امر کا اطلاق، کسی ملتوی کئے گئے گذشتہ تاریخ سے لئے گئے یا کسی دیگر محکمے سے منتقل کئے گئے سوال پر نہ ہو گا۔

 

(2) کسی بھی اجلاس کی فہرست کارروائی میں 35 سے زائد نشان زدہ سوالات شامل نہیں کئے جائیں گے اور باقی ماندہ سوالات، اگر کوئی ہوں،جوجوابات دئیے جانے کے لئے تیار ہوں، تو وہ متعلقہ محکمے کے لئے مقرر کردہ اگلے دن کی فہرست کارروائی میں شامل کئے جائیں گے۔

 

(3) سوالات اسی ترتیب سے فہرست میں شامل کئے جائیں گے جس ترتیب سے ان کے نوٹس وصول ہوئے ہوں گے لیکن کوئی رکن، اس اجلاس سے پہلے جس کے لئے سوال مذکورہ فہرست میں شامل کیا گیا ہو، کسی وقت بھی بذریعہ تحریری نوٹس اپنا سوال واپس لے سکتا ہے۔

 

 

 

53۔ سوالات کی فہرست۔ سوالات نا منظور نہ کئے جانے کی صورت میں اسی دن کی فہرست سوالات میں شامل کئے جائیں گے اور اگر سوالات کے اس فہرست میں شامل کئے جانے والے دن کے وقفہ سوالات کے آغاز سے اڑتالیس گھنٹے قبل تک متعلقہ وزیر کی جانب سے ان سوالات کے جوابات موصول ہو جائیں تو انہیں بھی ان سوالات کے ساتھ فہرست میں شامل کر لیا جائے گا اور ان کی باری اس ترتیب سے آئے گی جس ترتیب سے وہ اس فہرست میں شامل کئے گئے ہوں گے

 

 تا آنکہ سپیکر ایوان کی اجازت سے اس ترتیب کو تبدیل کر دے۔

 

54۔ جوابات میں تاخیر۔ (1) اگر متعلقہ وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری کے پاس سوال کا جواب تیار نہ ہو یا اگر سوال کا جواب[4]]قاعدہ 53میں[ مصرحہ وقت کے اندر اندر موصول نہ ہو تو متعلقہ وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری ایوان میں اس کی وجوہات بیان کرے گا۔

 

(2) اگر سپیکر مطمئن ہو کہ متعلقہ وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری کے لئے سوال کا جواب تیار کرنا ممکن نہ تھا تو سوال ، جواب دینے کی غرض سے اس آئندہ دن کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا جو اس محکمے کے لئے مقرر کیا جائے گا۔

 

(3) سپیکر یہ ہدایت کر سکتا ہے کہ متعلقہ وزیر معاملے کی چھان بین کرے اور اس محکمے کے لئے مقرر آئندہ دن انکوائری کی رپورٹ بشمول اس سلسلے میں کی جانے والی کارروائی، اگر کوئی ہو، ایوان کے سامنے پیش کرے۔

 

 

 

55۔ سوالات پوچھنے اور جواب دینے کا طریق کار۔ (1) سوالات کے دریافت کئے جانے کے وقت سپیکر ان اراکین کے نام یکے بعد دیگرے پکارے گا جن کے نام پر فہرست سوالات میں نشان زدہ سوال درج ہوں گے۔

 

(2) وہ رکن جس کا نام پکارا جائے گا اپنی جگہ پر کھڑا ہو جائے گا اور تاآنکہ وہ کہے کہ وہ اپنے نام پر درج سوال پوچھنے کا ارادہ نہیں رکھتا، وہ سوالات کی فہرست میں دئیے گئے نمبر شمار کے حوالے سے سوال پوچھے گا۔

 

(3) اگر کسی سوال کو پیش کرنے کے لئے کہا جائے لیکن وہ سوال پیش نہ کیا جائے یا وہ رکن، جس کے نام پر وہ سوال درج ہو، غیر حاضر ہو تو سپیکر کسی دوسرے رکن کی درخواست پر اس کا جواب دینے کی ہدایت کرے گا۔

 

(4) سوالات کا جواب متعلقہ وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری دے گا۔

 

 

 

56۔ ضمنی سوالات۔ کسی نشان زدہ سوال کا جواب دئیے جانے کے بعد کوئی بھی رکن ایسے ضمنی سوالات پوچھ سکتا ہے جو جواب کی وضاحت کے لئے ضروری ہوں۔ لیکن سپیکر کسی ایسے ضمنی سوال کی اجازت نہیں دے گا جو اس کی رائے میں سوالات نفس مضمون اور ایسے سوالات کے قابل اجازت ہونے سے متعلقہ قواعد کی کسی شق کی خلاف ورزی کرتا ہو یا بصورت دیگر ایسے سوالات دریافت کرنے کے حق کا غلط استعمال ہو۔

 

 

 

57۔ زبانی جوابات نہ دئیے جانے والے سوالات کے تحریری جوابات۔ اگر کسی دن کی فہرست سوالات میں مشمولہ کسی نشان زدہ سوال کا جواب سوالات کے لئے مقررہ وقت کے اندر نہیں دیا جاتا تو وزیر کی جانب سے پہلے ہی مہیا کردہ جواب متعلقہ وزیر، پارلیمانی سیکرٹری یا وہ رکن، جس سے یہ سوال دریافت کیا گیا ہو، اس کا تحریری جواب ایوان کی میز پر رکھے گا اور ایسے سوال کے لئے زبانی جواب کی ضرورت ہو گی اور نہ اس سلسلے میں کوئی ضمنی سوال ہی پوچھا جائے گا۔

 

 

 

58۔ سوالات یا جوابات پر بحث کی ممانعت۔ قاعدہ 61کا تقاضا پورا کرنے کے ماسوا کسی سوال یا جواب پر کوئی بحث نہیں کی جائے گی۔

 

 

 

59۔ اسمبلی سیکرٹریٹ سے متعلق سوالات۔ اسمبلی سیکرٹریٹ سے متعلق سوالات، جن میں اس کے افسروں کے رویے سے متعلق سوالات بھی شامل ہیں، سپیکر سے ایک نجی مراسلہ کے سوا کسی دیگر طریقے سے دریافت نہیں کئے جا سکتے۔

 

 

 

60۔ سوالات کے جوابات کی پیشگی تشہیر نہ ہو گی۔ سوالات کے جوابات جو وزراء اسمبلی میں دینے کا ارادہ رکھتے ہوں، اس وقت تک اشاعت کے لئے جاری نہ کئے جائیں گے جب تک کہ یہ جوابات حقیقتاً اسمبلی میں پیش نہ کر دئیے جائیں یا انہیں ایوان کی میز پر نہ رکھ دیا جائے۔

 

 

 

61۔ کسی سوال کے جواب سے پیدا ہونے والے اہمیت عامہ کے معاملے پر بحث۔ (1) سپیکر کسی رکن کی جانب سے دو کامل دنوں کے نوٹس پر معقول اہمیت عامہ کے حامل ایسے معاملے کو زیر بحث لانے کے لئے ہر[5]] بدھ[ کے دن کی نشست میں ایک گھنٹے کا وقت مقرر کر سکتا ہے جو گذشتہ ہفتے کے دوران پوچھے جانے والے کسی نشان زدہ یا غیر نشان زدہ سوال کا موضوع رہا ہو:

 

 مگر شرط یہ ہے کہ سپیکر اس دن کی نشست کا وقت ایک گھنٹے کے لئے بڑھا سکتا ہے۔

 

(2) سپیکر ایسے نوٹسوں پر اسی ترتیب سے غور کرے گا جس ترتیب سے یہ وصول ہوئے ہوں اور جب ایسا ایک نوٹس منظور ہو جائے تو دیگر تمام نوٹس ساقط ہو جائیں گے۔

 

(3) سپیکر اس امر کا فیصلہ کرے گا کہ آیا زیر بحث لایا جانے والا معاملہ معقول اہمیت عامہ کا حامل ہے لیکن وہ ایسے نوٹس کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دے گا جس کا مقصد، اس کی رائے میں، حکومت کی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہو۔

 

(4) ایسی بحث کے دوران یا اس کے اختتام پر نہ تو رائے شماری ہو گی اور نہ کوئی رسمی تحریک ہی پیش کی جائے گی۔

 

 

 



[1] بذریعہ نوٹیفیکشن نمبرPAP/Legis-1(15)/ 2013/1380،شائع شدہ پنجاب گزٹ(غیر معمولی)،مورخہ 22فروری 2016، صفحات 3937-44، الفاظ ''تلاوت قرآن حکیم ''کی جگہ تبدیل کئے گئے۔

[2] بذریعہ نوٹیفکیشن نمبر PAP/Legis-1(94)/96/124،مورخہ 26 دسمبر 1997،الفاظ ''جمعتہ المبارک ، ہفتہ''کی جگہ تبدیل کیے گئے۔پنجاب گزٹ(غیر معمولی)مورخہ27دسمبر 1997کا صفحہ 2118 ملاحظہ فرمائیں ۔

 

[3] بذریعہ نوٹیفیکشن نمبر PAP/Legis-1(27)/08/397، الفاظ'آئین کے آرٹیکل 130کی ضمن(2۔اے)کے مقصدکےلیے تعین'کی جگہ تبدیل کیے گئے۔پنجاب گزٹ(غیر معمولی)مورخہ 12 مئی 2011کےصفحات 38765-69ملاحظہ فرمائیں ۔

 

[4] بذریعہ نوٹیفیکشن نمبرPAP/Legis-1(15)/ 2013 /1380،شائع شدہ پنجاب گزٹ(غیر معمولی)،مورخہ 22فروری 2016،صفحات 3937-44،الفاظ ''ذیلی قاعدہ (1)'' کی جگہ تبدیل ہوئے۔

[5] بذریعہ نوٹیفکیشن نمبر PAP/Legis-1(94)/96/124،مورخہ 26 دسمبر ، لفظ ''اتوار'' کی جگہ تبدیل ہوئے۔ پنجاب گزٹ (غیر معمولی)مورخہ 27 دسمبر 1997 کاصفحہ 2118 ملاحظہ فرمائیں ۔

 

ایوان

سیکریٹیریٹ

اراکین

کمیٹیاں

ایوان کی کارروائی

مرکز اطلاعات

رپورٹیں اورمطبوعات