عمارت پرنٹ کریں

اسمبلی کی عمارت کا تاریخی پس منظر

مموجودہ پنجاب اسمبلی کی عمارت کی تعمیر 1935 میں شروع ہوئی- اس زمانے میں آس پاس کا علاقہ نسبتا" کھلا اور کشادہ تھا- عمارت کا نقشہ پنجاب کے اس وقت کے تعمیراتی حلقے کے نگراں ماہر تعمیرات جناب بیزل ایم سیلیون نے بنایا- عمارت کا سنگ بنیاد سر جوگندر سنگھ، (اس وقت کے وزیر زراعت،) نے رکھا-

    Punjab Assembly Building  Speaker's seat in the Hall

محل وقوع اور نقشہ

پنجاب اسمبلی کی عمارت جو کہ لاہور کی شاہراۂ قائداعظم (مال) پہ واقع ہے، رومی فن تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہے- اور اس کا شمار ملک کی تاریخی اور ممتاز عمارات میں ہوتا ہے-  عمارت اور اس سے متصّل باغات آٹھ ایکڑ پر پھیلے ہوۓ ہیں-

عمارت کی دو منزلیں ہیں- پہلی منزل پہ اسمبلی ہال ہے جو عمارت کا مرکزی اور سب سے اہم حصّہ ہونے کے ساتھ شان اور شوکت و خوبصورتی کا بہترین امتزاج ہے-  تعمیر کے وقت اس میں اراکین کے بیٹھنے کی گنجائش اس وقت کے لحاظ سے رکھی گئ تھی جسے اراکین کی تعداد میں اضافے کے ساتھ بڑھا کر271 تک کر دی گئ ہے-

                  

ہال میں جدید پبلک ایڈریس سسٹم، کانفرنس اور سی سی ٹی وی نصب ہیں- متصّل گیلیریوں میں اخبار، ریڈیو اور ٹی وی کے نمائندوں اور دیگر مہمانوں کے لۓ کل 200 نشستیں ہیں جہاں سے ایوان کی پوری کاروائ دیکھی جا سکتی ہے-

Punjab Assembly Hall

پہلی منزل پہ ہی اسپیکر چیمبر، وزیر اعلی چیمبر، ڈپٹی اسپیکر کا دفتر، کابینہ کا کمرہ، وزراء کے دفاتر، دو کمرے کمیٹیوں کے اور سکریٹیریٹ کے دفاتر ہیں-

نیچے کی منزل پہ وسیع استقبالیہ، طعام خانہ، لائبریری، نماز کا کمرہ، شفا خانہ، قائد حزب اختلاف کا دفتر، ایک کمرہ کمیٹی کا، بینک اور سکریٹیریٹ کے مزید دفاتر واقع ہیں-

ایوان کے اراکین کا دارالاقامہ

ایوان کی عمارت کے ساتھ دو اقامت خانے بھی پنجاب اسمبلی نے حاصل کۓ ہیں جہاں لاہور کے باہر سے آنے والےاراکین، ایوان اور کمیٹیوں کے اجلاس کے دوران ٹہرتے ہیں-

(ا) پیپلز ہاؤس

ممبران کے لۓ پہلا اقامت خانہ 1950 میں تین حصوں پر تعمیر ہوا جسے پیپلز ہاؤس کہتے ہیں- یہ پنجاب سول سکریٹیریٹ کے نزدیک واقع ہے اور اس میں چالیس کمرے ہیں- یہ دومنزلہ عمارت مشتمل ہے جو ایک مرکزی باغ کے گرد واقع ہیں ان میں سے ہر ایک منزل پہ چھے کمرے ہیں- ایک چوتھا حصہ بھی ہے جس میں چار کمرے ہیں-

ہر کمرہ کشادہ خواب گاہ بمعہ بیٹھک، پوشاک خانہ اور غسل خانہ پر مشتمل ہے- کچھ کمروں کے عقب میں باورچی خانہ اور برآمدہ بھی ہیں- سارے کمرے غلام گردش سے ملے ہوۓ ہیں-

(ب) نیا دارالاقامہ

پیپلز ہاؤس کی ناکافی گنجائش اور ممبران کی بڑھتی ہوئ تعداد کے پیش نظر 1988 میں اسمبلی کے نزدیک ہی ایک نۓ دارالاقامہ کا تعمیراتی منصوبہ پیش کیا گیا- اس کام کے لۓ میسرز نیّر علی دادا وزیراعلی کی طرف سے مقرر کۓ گے اور انہوں نے اس منصوبے کا ماسٹر پلان تیار کیا-

اسمبلی کی عمارت کے باغ کے مغربی حصّے کی زمین کو نۓ دارالاقامہ کی تعمیر کے لۓ چنا گیا-

منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کثیر سرمائے کی ضرورت کے پیش نظر یہ طے پایا کہ ایک ساتھ پوری عمارت کو تعمیر کرنے کے بجائے مختلف حصوں میں تقسیم کرکے تعمیر کیا جائے، سو منصوبے کو ماسٹر پلان کے تحت اس نۓ دارالاقامہ کے دو بلاک ہونے تھے: بلاک 'اے' اور بلاک 'بی'-

بلاک 'اے' کی شکل نیم دائروی اور بلاک 'بی' کی شکل مستطیل رکھی گئ تھی-

منصوبے کے فیز ا اور فیز اا میں بلاک 'اے' کی تعمیر ہونی تھی جس میں 108 کمروں کی گنجائش رکھی گئ تھی-

1988 میں فیز ا کی تعمیر شروع ہوئ اور بنیاد اس وقت کے وزیراعلی میاں نوازشریف نے رکھی- یہ فیز 1992 میں تکمیل پایا اور اس کا افتتاح پنجاب اسمبلی کے اسپیکر میاں منظور احمد وٹو نے کیا- فیز ا میں بلاک 'اے' کے ایک تہائی  حصّے کی تعمیر ہوئ جس میں  نیچے کی منزل (استقبالیہ و مہمانوں کے لۓ بیٹھک)، سہولیات کی منزل (مختلف سہولیات کی فراہمی جیسے پانی، نکاسئ بدررو، گیس کی فراہمی وغیرہ) اور ان منازل کے اوپر چار مزید منزلیں تعمیر کی گئیں جن میں  کل چھتّیس رہائش گاہیں ہیں- ہر منزل پہ نو رہائش گاہیں ہیں اور ہر رہائش گاہ ایک خوابگاہ، غسلخانہ اور باورچیخانہ پہ مشتمل ہے-

اب تک فیز اا کی تعمیر شروع نہیں ہو سکی ہے- اصل منصوبہ کے تحت اس فیز میں 72 رہائش گاہیں بنائ جانی تھیں جنہیں بعد میں کم کر کے چالیس کر دیا گیا- اس فیز کی ہر رہائش گاہ میں لاؤنج، خوابگاہ، دفتر،  باورچی خانہ اور 2 غسلخانے شامل ہیں-

ایوان

سیکریٹیریٹ

اراکین

کمیٹیاں

ایوان کی کارروائی

مرکز اطلاعات

رپورٹیں اورمطبوعات