نشست:12 مئی 2020ء

پرنٹ کریں

فہرست کاروائی

 

 

ترمیم شدہ

21واں اجلاس

 

صوبائی اسمبلی پنجاب

 

 

 

منگل 12 مئی2020کو 11:30بجے صبح منعقد ہونے والے اسمبلی کے اجلاس کی فہرست کارروائی

 

 

 

تلاوت  اور نعت

 

......

 

سوالات

 

محکمہ خوراک سے متعلق سوالات

 

دریافت کئے جائیں گے اور ان کے جوابات دیئے جائیں گے۔

 

 

 

غیرسرکاری ارکان کی کارروائی

 

        حصہ اول

 

 (مسودہ     قانون)

 

                  

 

THE GREEN INTERNATIONAL UNIVERSITY BILL 2020

 

 

MS KHADIJA UMER:

 

 

 MS KHADIJA UMER:

to move that the Green International University Bill 2020, as recommended by the Standing Committee on Higher Education, be taken into consideration at once.

 

 

to move that the Green International University Bill 2020, be passed.

 

   

 

 

.........

 

 حصہ دوم

 

 

 

(مفاد عامہ سے متعلق قراردادیں)

 

(مورخہ 10 مارچ 2020 کے ایجنڈے سے زیر التواء قرارداد)

 

 

جناب محمد ایوب خان :

اس ایوان کی رائے ہے کہ دیگر صوبوں  کی طرز پر صوبہ پنجاب کے تمام سرکاری ملازمین کو اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد گروپ انشورنس کی رقم مع منافع ادا کرنے کے لئے
فی الفور قانون سازی کی جائے اور قواعد و ضوابط مرتب کئے جائیں۔

 

 

 

(موجودہ قراردادیں)

 

 

 

.1

محمد بشارت راجہ:

جناب حمزہ شہباز شریف:

رانا محمد اقبال خاں:

جناب منشاء اللہ بٹ:

چودھری محمد اقبال:

 

صوبائی اسمبلی پنجاب  کا یہ ایوان 11۔اپریل 2020 کو نہایت مدبر اور دانا Parliamentarian راجہ اشفاق سرور کے انتقال پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔ مرحوم اصولوں کی سیاست اور جمہوری اقدار و روایات پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کیلئے جدوجہد کی اور آخری دم تک اپنی پارٹی سے وفادار رہے۔ مرحوم ایک محب وطن سیاستدان تھے اور ان کی شخصیت میں اسلام پسندی اور پاکستانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مرحوم 1988 تا 1990‘ 1990 تا 1993‘ 1993 تا 1996‘ 1997 تا 1999 اور  2013 تا 2018 تک 5 بار پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس تمام عرصہ میں وہ 4 بار صوبائی وزیر اور ایک بار مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

یہ ایوان مرحوم کی وفات کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیتا ہے۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں انہیں ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کیا جائے گا اور ان کی کمی کو ہمیشہ محسوس کیا جائے گا۔ یہ ایوان دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

 

.........

 

.2

چودھری افتخار حسین چھچھر:

اس ایوان کی رائے ہے کہ حلقہ پی پی۔185 میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگانے کے لئے فی الفور اقدامات کئے جائیں تاکہ حلقہ کی عوام کو پینے کا صاف پانی میسر ہو سکے اور وہ موذی امراض سے محفوظ رہ سکیں۔

 

.........

 

.3

جناب محمد صفدر شاکر

اس ایوان کی رائے ہے کہ گندم کے آنے والے سیزن میں زمینداروں کو بار دانہ کے حصول اور گندم کی قیمت کی ادائیگی کا ایسا طریق کار  وضع کیا جائے کہ زمینداروں کو کوئی پریشانی پیش نہ آئے۔

 

.........

 

لاہور

محمد خان بھٹی

مورخہ: 11 مئی 2020

سیکرٹری

 

کاروائی کا خلاصہ

فی الحال دستیاب نہیں

منظور شدہ قراردادیں

 

قرارداد نمبر:49

 

محرک  کا نام: جناب عمار یاسر وزیر معدنیات

 

’’ارشاد باری تعالیٰ ہے:  "اے مسلمانوں ! حضرت محمد رسولﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول ہیں، اور نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔  (یعنی مہر لگ گئی اور یہ راستہ ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا ، یہاں سے اب کسی اور نبوت کے اجراء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا) ۔ (سورۃ الاحزاب آیت 40

 

جامع ترمذی اور سنن ابوداؤد میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ    "میری  امت میں سے تیس افراد ایسے اٹھیں گے جو کذاب (انتہائی جھوٹے) ہوں گے۔ ان میں سے ہر شخص اپنے بارے میں یہ گمان کرتا ہو گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا"۔

 

حضرت محمد رسولﷺ کی عظمت اور فضیلت کا پہلو اس اعتبار سے ہے کہ نبوت آپ پر کامل ہو گئی ہے، رسالت کی آپ پر تکمیل ہو گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم قرآن و حدیث شریف میں حضورﷺ کےضمن میں خاص طور پرتکمیل اکمل جیسے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے ہیں۔

 

جیسا کہ قرآن شریف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ  "آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا ہے اور آپ پر اپنی نعمتوں کا اتمام فرما دیا ہے"۔

 

یہ ایوان وفاقی کابینہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے قادیانیوں کو اس بنا پر اقلیتی کمیشن میں شامل نہیں کیا کہ قادیانی نہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں نہ اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں۔

 

یہ ایوان اعادہ کرتا ہے کہ آئے روز ناموس رسالت ﷺپر کوئی  نہ کوئی مسئلہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ کبھی حج فارم میں تبدیلی کر دی جاتی ہے، کبھی کتب میں سے خاتم النبیین ﷺ کا لفظ نکال دیا جاتا ہے لیکن آج تک ان سازشیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئ۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہےلیکن ہمیں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ یہ ہم سب کیلئے شرم کا مقام ہے۔

 

یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، جو لوگ ان سازشوں میں ملوث ہیں ان کو بے نقاب کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ مزید یہ کہ اقلیتی کمیشن میں ہندو، سکھ اور مسیحی بیٹھے ہیں ہم نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے۔ ہم اقلیتوں کو آئین میں دیئے گئے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہیں۔

یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اگر قادیانیوں کا سربراہ یہ لکھ کر بھیج دے کہ وہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت  تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں ان کے اقلیتی کمیشن میں بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔  ختم نبوت کا معاملہ ہمارے لئے ریڈ لائن ہے، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالتﷺ، تحفظ ناموس اصحابِ رسول،   تحفظ ناموس اہل بیت اطہار اور  تحفظ ناموس امہات المومینین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں، اس پر ہمارا سب کچھ قربان ہے۔ اس پر کسی کو ابہام نہیں ہونا چائیے۔‘‘

-----------------------------------

 

قرارداد نمبر:50

 

محرک  کا نام: رانا محمد اقبال خان (PP-181) چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ

 

 

 

"صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ ایوان 11۔اپریل 2020 کو نہایت مدبر اور دانا Parliamentarian راجہ اشفاق سرور کے انتقال پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔ مرحوم اصولوں کی سیاست اور جمہوری اقدار و روایات پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کیلئے جدوجہد کی اور آخری دم تک اپنی پارٹی سے وفادار رہے۔ مرحوم ایک محب وطن سیاستدان تھے اور ان کی شخصیت میں اسلام پسندی اور پاکستانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مرحوم 1988 تا 1990، 1990 تا 1993، 1993 تا 1996، 1997 تا 1999 اور 2013 تا 2018 تک 5 بار پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس تمام عرصہ میں وہ 4 بار صوبائی وزیر اور ایک بار مشیر وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔

یہ ایوان مرحوم کی وفات کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیتا ہے۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں انہیں ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کیا جائے گا اور ان کی کمی کو ہمیشہ محسوس کیا جائے گا۔ یہ ایوان دُعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔"

 

ایوان

سیکریٹیریٹ

اراکین

کمیٹیاں

ایوان کی کارروائی

مرکز اطلاعات

رپورٹیں اورمطبوعات